Land Mafia Revealed-Mohammad Ibrahim Special Report-KarachiNewsTV

Land Mafia Pakistan

جواہرات کے تاجر حاجی محمد اشفاق کے صاحبزادے محمد ابراہیم کی کراچی نیوزٹی وی سے ہونے والی گفتگو

جس میں انہوں نے لینڈ مافیا اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو بے نقاب کیا ہے

سیدمنور علی پیرزادہ

پاکستان میں ایک جانب عدالت عظمیٰ کالی بھیڑوں کے خلاف احتساب کا شکنجہ کسنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب سندھ کی سیاسی شخصیات لوٹ کھسوٹ کی کارروائیوں کا ریکارڈ بنارہی ہیں،ویسے تو پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سیاسی سرپرستی رکھنے والے بدمعاش کارندے پولیس کے کرپٹ عناصرکی مدد سے کراچی سمیت سندھ بھر میں کھربوں روپے مالیت کی اراضی پر قبضہ کرچکے ہیں بلکہ سندھ بورڈ آف ریونیو کے پیدا گیر افسران کے ذریعے جعلسازی سے بنائے گئے دستاویزات پر قبضہ شدہ سرکاری اور نجی زمینیں فروخت تک کی جاچکی ہیں،جس وجہ سے لاکھوں افراد اپنے گھروں سے محروم ہیں جو اب انصاف کے لیے برسوں سے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن سیاسی سرپرستی رکھنے والے بدمعاش اور سرکاری اداروں کے پیداگیرعناصرآزاد دندناتے پھر رہے ہیں ایسے ہی ایک طاقتور گروہ کا انکشاف ہوا ہے جوزمینوں پر قبضہ کرنے کی خاطر پولیس کے ذریعے مختلف افراد کو اغواء کرانے میں بھی ملوث رہا ہے،اسی گروہ سے متعلق یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اسے زرداری ہاؤس کی سرپرستی حاصل ہے،جبہی یہ گروہ عدالتی احکامات کو کسی خاطر میں نہیں لاتا بلکہ سرکاری اداروں میں اپنے تسلط کے ذریعے کھلم کھلا عدالت عالیہ سندھ کے احکامات کی دھجیاں اڑارہاہے کیونکہ اس گروہ کو جن طاقتور سیاسی شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے وہ سندھ حکومت میں اپنا مکمل اثر رکھتی ہیں،

اس گروہ کے مخصوص کارندوں میں شامل ایک معروف نام اعجاز شاہ کا ہے جو خود کو سرکاری افسرظاہر کرتے ہیں،ان پر الزام ہے کہ وہ مختلف کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں جعلسازی سے فروخت کرتے ہیں جبکہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے مختلف افراد کو اغواء کرانے کی وارداتوں میں بھی ملوث سمجھے جارہے ہیں،اس گروپ میں عارف حسین ہاشمی ،نایاب احمد ،ناول خان،رحمت خان،اسرارخان،خانودین ،گلبدین،جان محمد برکی اور اعظم برکی سمیت دیگر افراد بھی شامل ہیں،ان لینڈ مافیا کے عناصر پر الزام ہے کہ انہوں نے کراچی اسکیم 33میں واقع گلستان زریں کو آپریٹیوہا ؤسنگ سوسائٹی پر برسوں سے ناصرف قبضہ کررکھا ہے بلکہ پہلے سے الاٹ شدہ نجی رہائشی پلاٹوں اور رفاحی مقاصد کے لیے مختص زمین کو جعلسازی سے بنائے گئے دستاویزات کے ذریعے تاحال فروخت کرر ہے ہیں اور اس دوران یہ عناصر اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دبادیتے ہیں،

جیسا کہ مارچ 2014ء میں لینڈ مافیا کے کارندوں نے تاجر محمد اشفاق کے صاحبزادے محمد ابراہیم کو گھر سے اغواء کیا اور رہائی کے عوض سوسائٹی سے دستبردار کرایابعداز محکمہ کوآپریٹیو سوسائٹی کی ملی بھگت سے وہاں عارف حسین ہاشمی اور بعد میں نایاب احمد کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کروایا جہاں پہلے سے الاٹ شدہ پلاٹوں کی بندر بانٹ شروع ہوئی حالانکہ اُس دوران بھی عدالت عالیہ سندھ نے سوسائٹی سے متعلق مختلف احکامات جاری کررکھے تھے جس میں ایک حکم پلاٹوں کی ملکیت سے متعلق تھا جس کے تحت سوسائٹی ایڈمنسٹریٹر اور سب رجسٹرارکو گلستان زریں سوسائٹی کے پلاٹوں کی ملکیت تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں تھا مگرسوسائٹی میں بطور ایڈمنسٹریٹر تعینات ہونے والوں جعلسازوں نے عدالتی احکامات کی پرواہ کیے بغیرپلاٹوں کی غیر قانونی فروخت کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ اس دوران سندھ بورڈ آف ریونیو کے سب رجسٹرار گڈاپ عارف الدین نے عدالتی حکم سے آگاہی کے باوجود اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور پہلے سے الاٹ اور لیز شدہ پلاٹوں کو دوبارہ لیزوں کا اجراء کیا،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لینڈ مافیا کے اس گروہ کو اینٹی انکروجمنٹ فورس میں تعینات رہنے والے ڈی ایس پی طلحہ بھی سہولت فراہم کرتے ہیں عدالتی احکامات کے باوجود غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کو جاری رکھوایا،اب یہ گروہ ایس ایچ او سہراب گوٹھ اختر علی بنگش کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہاہے

تاجر محمد اشفاق کے صاحبزادے کو مختلف ذریعوں سے خطرناک نتائج بھگتنے کے پیغام بھجوائے جارہے ہیںِِ،اس ضمن میں تاجر محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے، لینڈ مافیا کے سرغنہ اعجاز شاہ سے ان کی ملاقات ایس ایچ او سہراب گوٹھ کے پاس ہوئی جہاں لینڈ مافیا کے دیگر عناصر اور ڈی ایس پی طلحہ بھی موجود تھے ،اس دوران اعجاز شاہ نے گلستان زرین سوسائٹی سے متعلق وہ دستاویزات ظاہر کیے جو 2014ء محمد ابراہیم کو اغواء کے بعد جعلساز گروہ نے ہتھیائے تھے ، کراچی نیوز ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اعجاز شاہ کو فوری گرفتارکرکے تحقیقات شروع کی جائے،یاد رہے کہ1978ء میں جواہرات کے تاجر محمد اشفاق نے ذاتی حیثیت میں زمین خرید کر جمعیت چاندی والان دہلی(قوم لاہوریان)سے تعلق رکھنے والی برادری کی آباد کاری کے لیے گلستان زریں کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی تھی،محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد قائم ہونے والی پیپلزپارٹی کی حکومت میں جس طرح دیگر کوآپر یٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی زمینوں پر قبضے اور جعلی دستاویزات بنانے کا سلسلہ شروع ہوا اُسی دوران اس سوسائٹی میں پہلے سے الاٹ اور رفاحی مقاصد کے لیے مختص شدہ ارضی پر بھی قبضہ ہوا ،اس حوالے سے مختلف آئینی درخواستیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں بلکہ انسداد کرپشن اور اینٹی انکروجمنٹ فورس کے افسران زمینوں پر قبضے ،جعلسازی سے دستاویزات بنانے سے متعلق مکمل طور پر باخبر ہیں لیکن لینڈ مافیا پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں کسی سرکاری ادارے کو خاطر میں نہیں لاتے دراصل انہی اداروں کے پیداگیر افسران زمینوں پر قبضہ کرکے وہاں سے کمائی کابڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

زرداری ہاوس کی سرپرستی

سندھ حکومت میں لینڈ مافیا کے سہولت کار سرکاری افسران اغواء کی وارداتوں میں ملوث نکلے
گلستان زریں کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی پر قبضے کے خلاف آواز اٹھانے والے تاجر محمد ابراہیم کی جان کو خطرہ ،ماضی میں اغواء کرنے والا گروہ بے نقاب ،متعلقہ اداروں کی پراسرار خاموشی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.