University Of Karachi

کراچی یونیورسٹی میں چلائی جانے والی کباڑہ بسیں

طلبہ و طالبات کے لئےجامعہ کراچی میںچلائی جانے والی  ٹوٹی پھوٹی بسیں 

جامعہ کراچی کی جانب سے طلبہ وطالبات کے لیے چلائی جانے والی 30سال پرانی بسوں میں خطرناک حد تک کباڑہ بسیں بھی شامل ہیں جو کسی بھی وقت سنگین حادثے کا سبب بن سکتی ہیں،جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً24ہزار طالب علموں کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے صرف28بسیں چلائی جاتی ہیں،جن میں3ہزار 500طالب علموں کو ٹھونس کر جامعہ کراچی میں پہنچایاجاتا ہے حالانکہ ایک بس میں 80افراد کی گنجائش ہوتی ہے مگر محدود بسیں ہونے کی وجہ سے طالبہ وطالبات کی بڑی تعداد مجبوراً بسوں میں سوار ہوتی ہے،کراچی نیوز ٹی وی کی جانب سے ہونے والے سروے کے دوران اس بات کا بھی مشاہدہ ہوا ہے کہ طالب علموں کو لانے اور لیجانے والی بسوں میں وہ بسیں بھی شامل ہیں جن کے ٹائر خطرناک حد تک تباہ شدہ ہیں جبکہ دوسری جانب جامعہ کراچی میں نجی ٹرانسپورٹرز کا راج ہے،تقریباً100ہائی ایس اور ہائی روف گاڑیاں فی طالب علم ڈھائی سے چار ہزار روپے ماہانہ وصول کرکے انہیں سفری سہولت فراہم کرتی ہیں،اس ضمن میں جامعہ کراچی میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی سے صبح کی شفٹ میں چلائی جانے والی ٹرانسپورٹ میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود زبردستی سوار ہوتے ہیں اس کے بعد بھی شدید گرمی میں روزانہ 4سے5کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.