FBR Has Taken 9.8 Billion Rupees Of Sindh

Murad ALi Shah FBR

سندھ کے9.831بلین روپے ایف بی آر لے اڑا

پی سی ایف سے ہونے والی کٹوتی غیر آئینی ہے ، وزیر اعلی سندھ

 ( کراچی نیوز ٹی وی رپوٹ)

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے گذشتہ کئی سالوں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے پرونشل کنسولیڈیٹڈ فنڈ (  پی سی ایف ) سے اشیاء پرودہولڈنگ ٹیکس اور سیل ٹیکس کی مد میں  مسلسل صوابدیدی اور غیر قانونی کٹوتی کا  سامنا ہے جو کہ آئینی دفعات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے یہ بات آج  وزیر اعلیٰ ہائوس میں  ایف بی آر کی جانب سے کٹوتیوں سے متعلق ہونے والے اجلاس  کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ٹیکسیشن اور محکمہ خزانہ کے  سینئر افسران نے شرکت کی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ  کے پاس محکمہ خزانہ کا قلم دان بھی ہے جس وجہ سے انہوں  نے 13-2012 کے اعداد و شمار بتائے ہوئے کہا کہ  ایف بی آر نے پی سی ایف فنڈ سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 633.119ملین روپے  غیر آئینی طورپرکٹوتی کی۔16-2015 میں 6127.115ملین روپے کی کٹوتی کی گئی اور  17-2016 میں مزید 294.5ملین روپے کی کٹوتی کی گئی اس طرح گذشتہ 3 مالی سالوں کے دوران 7054.734ملین روپے  کی سندھ سے کٹوتی کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو ان کی مالیاتی ٹیم نے بتایا کہ  ایف بی آر نے پرونشل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے کٹوتیاں کی ہیں ۔ واضح رہے کہ ایف بی آر نے 15-2014 میں محکمہ ایکسائز سے 816.267ملین روپے کی کٹوتی کی ،11.878ملین روپے بورڈ آف ریونیو سے ،6.662ملین روپے محکمہ مائنز اینڈ منرل سے اور 1.704ملین روپے ، جن میں میں محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ بھی شامل ہیں ، اس طرح مجموعی طورپر 881.513ملین روپے کی کٹوتیاں کی گئیں ۔ 16-2015 میں  ایف بی آر نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسٹیشن سے6127.116ملین روپے ، محکمہ اطلاعات سے 1.700ملین روپے، محکمہ پی اینڈ ڈی سے 11.878ملین روپے، بورڈ آف ریونیو سے 7.229ملین روپے،محکمہ مائنز اینڈ منرل سے 59.069ملین روپے، محکمہ جیل سے 122.324ملین روپے اور محکمہ تعلیم سے 87.750ملین روپے کی کٹوتی کی گئی ۔16-2015 کی مجموعی کٹوتیاں  6417.076ملین روپے بنتی ہے ۔ 17-2016 میں ایف بی آر نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن  سے 76.870ملین روپے،محکمہ صحت سے 11.119ملین روپے، محکمہ داخلہ سے 290.499ملین روپے ، محکمہ خزانہ سے 415.891ملین روپے، بورڈ آف ریونیو سے 12.834ملین روپے اور محکمہ مائنز اینڈ منرل سے 9.821ملین روپے کی کٹوتی کی گئی، اس طرح مجموعی کٹوتیاں 401.560ملین روپے بنتی ہے۔ مذکورہ تمام کٹوتیوں کی رقم 9.831بلین روپے بنتی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے آئین کے آرٹیکل 119کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  پرونشل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کی کسٹوڈی اور  اسے رقم  نکالنے کی اتھارٹی  صوبائی حکومت کے پاس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی صوابدیدی کے تحت ایف بی آر کی جانب سے پی سی ایف  سےرقم  نکالنا آئین کی  خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  آئین کے آرٹیکل  121(ڈی) میں یہ واضح ہے کہ پی سی ایف سے صوبے کے خلاف کسی بھی ججمنٹ ،ڈگری یا ایوارڈ کی صورت میں کسی بھی عدالت یا ٹریبونل کے لیے  اخراجات کیے جاسکتے  ہیں ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت کٹوتی کی جاتی ہے لہٰذا ایسے آرڈر کو آئین کے تحت  مجاز تسلیم نہیں  کیا جاسکتا ۔انہوں نےاس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے 3اپریل 2017 کے خط میں ایف بی آر اتھارٹیز کو یہ لکھا ہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت اس معاملے کو سی سی آئی کے اجلاس میں اٹھائے گی کہ ایف بی آر اتھارٹی غیر قانونی طریقے سے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی سی ایف سے  رقم نکال رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کو ایک خط لکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں ان سے درخواست کی جائے گی کہ وہ وزارتِ خزانہ  کو ہدایت کریں کہ وہ ایف بی آر کی جانب سے پی سی ایف سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں  کٹوتی کی گئی 7.054بلین روپے کی رقم  سندھ حکومت کو واپس کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 15-2014 تا 18-2017 ایف بی آر نے مجموعی طورپر 9.831بلین روپے کٹوتیاں کی ہیں  اور یہ رقم سندھ حکومت کو واپس ملنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کل صبح وزیر اعظم کو خط بھیجیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.