Dalmia Group Adopts Red Fort -India’s symbol of Independence Lal Qila

Laal Qila

لال قلعہ کو گروی رکھ دیاگیا


مسلم نوجوانوں نے 80کی دہائی میں ’مسجد بساؤ کمیٹی ‘کے پرچم تلے دہلی کی تاریخی مساجد میں نماز کی اجازت حاصل کرنے کے لئے ایک زوردار مہم چلائی تھی۔ اس کا مقصد محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام تاریخی عمارتوں اور قلعوں میں موجود ویران پڑی ہوئی مسجدوں کو سجدوں سے آباد کرنا تھا۔ یہ تحریک اتنی آگے بڑھی کہ اس وقت کی وزیراعظم آنجہانی اندراگاندھی کے دروازے تک پہنچ گئی ۔ مسز گاندھی نے یہ کہتے ہوئے ان مسجدوں میں نماز کی اجازت دینے سے انکار کردیا کہ ایسا کرنے سے ان تاریخی عمارتوں کی ہیئت متاثر ہوگی۔ بات آئی گئی ہوگئی اور آہستہ آہستہ یہ تحریک بھی دم توڑ گئی۔ اب جبکہ مرکزی حکومت نے تاریخی عمارتوں کو معقول معاوضے کے تحت کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس کے تحت دہلی کے تاریخی لال قلعہ کو بھی پانچ سال کے لئے 25کروڑ روپے کے عوض گروی رکھ دیاگیا ہے تو یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ یہ کاروباری گھرانے آخرلال قلعہ کی تاریخی حیثیت اور انفرادیت کو کیسے برقرار رکھ سکیں گے اور کیا ایسا کرنے سے ان عمارتوں کی ہیئت متاثر نہیں ہوگی؟

لال قلعہ کو25کروڑ روپے کے عوض گروی رکھنے کی مخالفت سیاسی حلقوں سے ہی نہیں بلکہ تاریخ دانوں اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی طرف سے بھی ہورہی ہے۔ اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا دباؤ شدید تر ہے جو حکومت نے لال قلعہ کے لئے ڈالمیا گروپ سے کیاہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہماری بڑبولی حکومت اس قابل بھی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ ملک کے تاریخی آثاروں کی حفاظت اور رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری نبھاسکے۔ کیا لال قلعہ کو ایک کارپوریٹ کمپنی کو ٹھیکے پر دے کر حکومت نے اپنی نااہلی اور نکمے پن کو قبول کرنے کا اعلان نہیں کررہی ہے؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کی یہ کمپنیاں جن کا واحد مقصد ہرکام سے پیسہ کمانا ہوتا ہے وہ لال قلعہ اور دیگر تاریخی عمارتوں کو ٹھیکے پر لے کر ان کی تاریخی حیثیت اور ہیئت سے کھلواڑ نہیں کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ انڈین ہسٹری کانگریس نے لال قلعہ کے رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری ڈالمیا گروپ کو دیئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاہدے کو فی الحال معطل رکھنے کا مطالبہ کیاہے۔ انڈین ہسٹری کانگریس کی طرف سے کہاگیا ہے کہ’’ ڈالمیا صنعتی گروپ کو تاریخی مقامات کے رکھ رکھاؤ اور تحفظ کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ وہ سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ اپنی طرف متوجہ کرنے کے نام پر لال قلعہ کی تاریخی حیثیت اور اس سے وابستہ حقائق کو توڑمروڑ کر نہ پیش کریں اور اس کی غلط تشریح نہ کرنا شروع کردے۔‘‘ انڈین ہسٹری کانگریس نے لال قلعہ کے سیکولر خدوخال کو چوٹ پہنچائے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیاہے۔
ہم آپ کو یاددلادیں کہ گزشتہ سال یوم سیاحت کے موقع پر صدرجمہوریہ نے مرکزی حکومت کی ایک اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہاتھا کہ جو کوئی بھی تاریخی عمارتوں کے رکھ رکھاؤ کے سلسلے میں اپنی خدمات پیش کرنا چاہتا ہے وہ آگے آسکتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت اب تک پورے ملک میں ایسے 93تاریخی مقامات کو ٹھیکے پر دینے کا اعلان کرچکی ہے ، جنہیں دیکھنے کے لئے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔ جو عمارتیں اب تک کارپوریٹ کمپنیوں کو دی جاچکی ہیں ان میں دہلی کا پرانا قلعہ ، جنترمنتر، قطب مینار، صفدر جنگ مقبرہ، اگرسین کی باؤلی شامل ہیں۔ ان عمارتوں میں تازہ اضافہ لال قلعہ کا ہوا ہے اور ایک معاہدے کے تحت دہلی کا لال قلعہ 25کروڑ روپے کے عوض ڈالمیا گروپ کے پاس آئندہ پانچ سال کے لئے گروی رکھ دیاگیا ہے۔ ڈالمیا گروپ وزارت سیاحت وثقافت سے منظوری حاصل ہونے کے بعد سیاحوں سے فیس بھی وصول کرنا شروع کرے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈالمیا کمپنی 30دنوں کے اندر قلعہ میں کام شروع کردے گی جس کے بعد پانچ سال کے لئے لال قلعہ کی ذمہ داری پوری طرح اسے سونپ دی جائے گی۔ ڈالمیا گروپ کا کہنا ہے کہ لال قلعہ کے رکھ رکھاؤ کا ٹھیکہ ملنے کی وجہ سے برانڈ کے پاس اپنی ساکھ بنانے کا اچھا موقع ہے۔ کمپنی نے لال قلعہ کو یوروپی قلعوں کی طرز پر تجدید کاری کرنے کی بات بھی کہی ہے۔
سترہویں صدی میں مغل فرمانروا شاہجہاں کے ہاتھوں تعمیر کردہ اس عظیم الشان عمارت کی سب سے بڑی خوبی اس کا اپنا جاہ وجلال ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہرسال یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم لال قلعہ کی فصیل سے ہی قوم کو خطاب کرتے ہیں۔ اس قلعہ میں دیوان عام اور دیوان خاص کے علاوہ مغل عہد کے نوادرات کا ایک شاندار میوزیم بھی موجود ہے اور یہاں خوبصورت موتی مسجد بھی واقع ہے۔ انگریزوں کے خلاف 1857میں آزادی کی پہلی لڑائی کا آغاز اسی لال قلعہ سے بہادرشاہ ظفر کی قیادت میں ہوا تھا۔ اتنی خوبیوں اور خصوصیات کی حامل اس عمارت کو مودی سرکار کی طرف سے ایک کارپوریٹ کمپنی کے ہاتھوں گروی رکھنے پر ڈھیروں سوال کھڑے کئے گئے ہیں۔ ایک طرف جہاں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے تو وہیں سوشل میڈیا پر بھی حکومت کے اس فیصلے پر کافی تنقید ہورہی ہے۔ کانگریس نے سوال کیا ہے کہ آخر حکومت سرکاری عمارتوں کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں کیسے سونپ سکتی ہے؟ وہیں آرجے ڈی نے کہاہے کہ’’ مودی سرکار کے اس کام کو لال قلعہ کا نجی کرن کرنا کہیں گے ، گروی رکھنا کہیں گے یا اسے فروخت کرنا کہیں گے۔ اب وزیراعظم کی یوم آزادی کی تقریر بھی نجی کمپنی کی ملکیت والے اسٹیج سے ہوگی۔ ‘‘ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ’’ مودی سرکار ہمارے تاریخی لال قلعہ کی دیکھ بھال کیوں نہیں کرسکتی۔ لال قلعہ ہماری قومی وراثت ہے، اسے پٹے پر کیوں دے دیا گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا تکلیف دہ اور سیاہ دن ہے۔ ‘‘
ڈالمیا گروپ کے سی ای او مہندر سندھی کا کہنا ہے کہ’’ لال قلعہ ہمیں شروع میں پانچ برسوں کے لئے ملا ہے۔ معاہدے میں بعد کو توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر سیاح ہمارے لئے ایک گراہک ہوگا۔ یوروپ میں کچھ قلعے لال قلعہ کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں لیکن انہیں بہترین طریقے سے ڈیولپ کیاگیا ہے۔ ہم لوگ بھی لال قلعہ کو اسی طرز پر ڈیولپ کریں گے۔‘‘ ڈالمیا گروپ کے سی ای او کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ وہاں آنے والے سیاحوں کووہ ایک گراہک سمجھ کر اس کی جیب خالی کرنے کا کام کریں گے۔ کارپوریٹ کمپنیاں کبھی کوئی معاہدہ نقصان کے لئے نہیں کرتی ہیں ۔ اسی طرح ڈالمیا گروپ بھی لال قلعہ کو پانچ سال کے لئے ٹھیکے پر لے کر اس سے کئی گنا رقم کمائے گا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہماری حکومت نے لال قلعہ کی آمدنی سالانہ 5کروڑ روپے طے کی ہے۔ جبکہ حکومت کو فی الحال اس سے زیادہ آمدنی ہورہی ہے اور وہ اس کا بہتر رکھ رکھاؤ کرسکتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک نجی کمپنی کو فائدہ پہنچانے اور سرکاری خزانے کو چونا لگانے کے لئے یہ قدم اٹھایاگیا ہے۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ لال قلعہ نجی کمپنی کو سونپنے کے بعد اس کی اصل حیثیت اور ہیئت برقرار رہے گی۔ کمپنی اس کی جدید کاری کے نام پر اس کی تاریخی حیثیت سے کھلواڑ کرسکتی ہے اور اس کے بنیادی کردار کو بھی تبدیل کرسکتی ہے۔ جیسا کہ انڈین ہسٹری کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ملک کے مشہور مؤرخین نے بھی حکومت کے اس قدم کی پرزور مخالفت کی ہے۔ نامور مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ’’ حکومت کو لال قلعہ ایک کارپوریٹ گروپ کو ہرگز نہیں سونپنا چاہئے کیونکہ وہ نہ تو آثار قدیمہ کے ماہر ہیں اور نہ ہیں تاریخ داں ہیں اور نہ ہی مغلیہ عہد کے طرز تعمیر سے واقف ہیں۔‘‘ محکمہ آثار قدیمہ کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر آرسی اگروال نے بھی حکومت کے اس اقدام کو لال قلعہ کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ڈالمیا گروپ کو اس کام میں مہارت حاصل نہیں ہے۔ وہ اس کام کے لئے کسی اور کو ٹھیکہ دیں گے اور یہ قدم اس تاریخی عمارت کے حق میں سود مند نہیں ہوگا۔‘‘ اسی قسم کے خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر شیریں موسوی نے بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو تاریخی آثاروں کی جدید کاری نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہماری شناخت ہیں اور لوگ انہیں اسی حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہمایوں کے مقبرے کی جدید کاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’ اس کا رنگ وروغن وجدید کاری مغل عہد کے اوریجنل مقبروں جیسا نہیں ہے۔ اس قسم کی مداخلت سے تاریخی آثار اکیسویں صدی کی عمارتیں نظر آئیں گی۔ ‘‘

Share This Pos

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.