Nisar Khuhro+ MQM provided names the operation does not come to light

Sindh Rangers Lyari Operation

ایم کیو ایم اپنے لوگوں کے نام پہلے دے دیتی تو آپریشن کی نوبت نہ آتی: نثار کھوڑو


کراچی:سندھ اسمبلی میں پیر کوآٹھویں روز بھی مالی سال 2018-19 ء کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی جس کے دوران حکومتی ارکان نے اپوزیشن اور اس کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور سرکاری ارکان نے اپنی تقاریر میں مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی جانب سے ایوان میں جوتا دکھانے کے واقعہ کا بار بار تذکرہ کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم میں ہر کسی کی بات سننے کا حوصلہ موجود ہے لیکن افسوس کہ اب تو کچھ لوگوں کو اب اپنی زبان پر اور پائوں پر بھی قابو نہیں رہاسندھ کے سینئروزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑوکا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو اسمبلی نے عزت دی وہ اسی اسمبلی کو جوتا دیکھا رہے ہیں، جوتا دکھانا ایک بہت ہی چھوٹی اور چھیچوری حرکت ہے۔پیر کو سندھ اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے ایوان میں بڑے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھو ں لیا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی نے پاکستان بنانے کے حق میں قرارداد منظور کیا یہاںجو بھی بڑی تبدیلی آئی ہے وہ پیپلزپارٹی کی ہی مرہون منت ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے متعصبانہ رویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2015میں ایک اور این ایف سی ایوارڈ آنا تھا چاہیے تھا لیکن سندھ کے لوگ آج تک اس کا انتظار کر رہے ہیں اور ہم نئے این ایف سی ایوارڈ کے بغیر چل رہے ہیں۔ ہر بجٹ کے بعد این ایف سی کا انتظار کرتے ہیں لیکن صرف کٹوتی ملتی ہے۔ صوبے نے اپنی ریکوری چار ارب سے سو ارب بڑھا دی ہے۔ جس کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ تین سو ارب سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اس بات کو نہیں مانتے وہ تلملائے ہوئے ہیں،جو یہاں چلاتے ہیں لیکن وہ قومی اسمبلی میں سندھ کے خلاف زیادتیوں بہت خاموش ہیں۔ آج جب اس اسمبلی نے انھیں عزت دی لیکن انھوں نے ایوان جو جوتا دکھایا۔ جوتا دکھانا ایک چھچوری عادت ہے۔ایم کیو ایم اگر اپنے برے لوگوں کا نام پہلے دیتے تو نوبت آپریشن تک نہیں پہنچتی ۔نثار کھوڑو نے فنکنشل لیگ کے رہنماؤں کا نام لئیے بغیر تنقید کی اور کہا کہ وفاق میں بیٹھے، ہوئے سندھ کے لوگ منافقت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کہتے ہیں ہم تبدیلی لائے ہیں وہ اپنے صوبے کا بجٹ نہیں لا سکے ۔وزیر پارلیمانی نے کہا کہ: اگر پنجاب کو زیادہ پیسے ملے ہیں اور اس نے ترقی کی لیکن اہم بات یہ ہے کہ سندھ نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ترقی کی ہے اور وہ ترقی میں دوسرے نمبر پر ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ ہمیں اپنی محنت اور کارکردگی سے حکومت ملتی ہے۔ آئندہ بھی ہماری کارکردگی پر ہمیں حکومت ملے گی۔ انہوںنے کہا ہے کہ جب ہم اپوزیشن کو گزشتہ ادوار یاد دلاتے ہیں تو ان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے سندھ اسمبلی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے اپنی بجٹ تقریر میں اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جی ایم سید کی موجودگی میں پاکستان کاجھنڈہ لہرایا گیاجوخاتون ان کے ساتھ تھیں اس کووزیر تعلیم بنایا گیا،جی ایم سید کے پوتے کو بھی ایم کیوایم نے ڈپٹی اسپیکر بنایا۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ہر چھوتا بچہ اسکول سے باہر ہے۔یہ ہے خٹک کی تبدیلی جہاں تعلیم کی صورتحال بہت خراب ہے11 لاکھ بچے اسکول کبھی گئے ہی نہیں ،مولانا سمیع الحق کے مدرسے میں رقوم خرچ کی گئیںآپ کے ہاں خواتین کو مہ جبین کہنے کا رواج ہے ۔ ڈپتی اسپیکر نے کہا کہ رئیس امرہووی نے قائد ایم کیوایم کی کوڑوں کی سزا معاف کرائی ،اس صلے میں رئیس امروہوی کو نامعلوم افراد کے زریعے قتل کرایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے دس سال کے لیے کوٹہ سسٹم لگایا تھا، پرویز مشرف نوازشریف اور اسحاق خان نے کوٹہ سسٹم میں توسیع کی۔ سندھ کے وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ آئین میں نئے صوبے کی کوئی گنجائش نہیں،آسمانی صحیفہ بھی آجائے توبھی ہم سندھ کی تقسیم قبول نہیں کریں گے ،ہماری دعا ہے کہ سندھ میں امن کی بارش ہوئی۔بلدیہ فیکٹری میں بھتہ نہیں ملا لوگوں کو جلا دیاآپ کہتے ہو اردو سپیکنگ ، بھائی اردو سپیکنگ تو پروین شاکر تھیں، انور شعور، سحر کاظمی، حکیم سعید اردو سپیکنگ تھے ۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ جوتا دیکھا کر پوری سندھ اسمبلی کی توہین کی گئی یہ جوتا صرف ڈپٹی اسپیکر کو نہیں بلکہ پوری اسمبلی کو دکھایا گیاتھا۔

Nisar KhuhroNisar Khuhro

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.