لاہور(ویب ڈیسک)زیرحراست بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈراَبھےنندن ورتمان غالباًدوسراہائی پروفائل جنگی قیدی تھا جسے1965کی جنگ کے بعدپاکستان نے پکڑاہے۔ ابھےنندن ریٹائرڈایئرمارشل سمہکتے ورتمان کابیٹاہے جنہوں نے کچھ سال قبل بھارتی ایئرفورس کی ایسٹرن کمانڈکی سربراہی کی تھی۔ جمعے کوپائلٹ ابھی نند ن ورتمان کی رہائی کی وجہ سے وہ بھی تاریخ رقم کرگئے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی ملک کے خوش قسمت جنگی قیدی ہوں گے جوایک اجنبی سرزمین پرجنگی کارروائی کرتے ہوئے غیرملکی فورسزز کی جانب سے پکڑے جانے کے بعد 48 گھنٹوں میں ہی قیدسے رہاہوگئے۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق 1965کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سکواڈرن لیڈر(بعد میں وہ ترقی پا کر ائیرمارشل بنے)کےسی ”نندا“ کریپا(تاریخ پیدائش1938) پکڑا گیاتھا،وہ فیلڈ مارشل کوداندراکر یپا (1899-1993)، جو پہلے بھارتی آرمی کمانڈرانچیف تھے انھوں نے 1947کی پاک بھارت جنگ کے دوار ن مغربی محاذ پر بھارتی فوج کی قیادت کی تھی، کے بیٹے تھے۔
نوجوان سکواڈرن لیڈر کے پکڑے جانے بعد پاکستانی فورسز نے اسے ہتھکڑی لگائی اور پاکستانی صدر ایوب خان نے اپنے پرانے ساتھی جنرل کریپا کو ا±ن کے بیٹے کو چھوڑنے کی پیش کش کی لیکن اس وقت کے ریٹا ئر بھارتی جنرل نے جواب دیا تھا:”تمام جنگی قیدی میرے بیٹے ہیں ان کا خیال رکھیں۔“ جونیئرکریپا کے طیار ے کوپاکستان کے خلاف فضائی حملہ کرتے ہوئے گرایا گیاتھااور انھیں قیدی بنالیاگیاتھا۔ایوب اور کریپا نے 1947 کی تقسیم سے قبل برٹش انڈین آرمی میں کام کیاتھا۔ کریپا دو بھارتی افسروں میں سے ایک تھے جو فیلڈ مارشل کے فائیوسٹاررینک تک پہنچے، دوسرے فیلڈ مارشل سام مانیکشاتھے۔ 1953میں ریٹائرمنٹ کے بعدجنرل کریپا 1956تک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہائی کمشنر تعینات رہے۔
The post 2019 میں ابھی نندن کی گرفتاری لیکن آج سے 54 سال قبل کس اعلیٰ بھارتی شخصیت کا بیٹا پاکستان نے پکڑا تھا اور اس کی رہائی کی پیشکش کس نے کی تھی؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں appeared first on Urdu News.