مائیکل پاپاڈاکیز غیر روایتی مواد سے شاہکار فن پارے تخلیق کرتے ہیں۔ مائیکل لکڑی کے ٹکڑوں، سورج کی شعاعوں اور آتشی شیشے کے استعمال سے شاہکار فن پارے بناتے ہیں۔
یونانی امریکی فنکار کا کہنا ہے کہ وہ سیاح اور مصور بننا چاہتے ہیں لیکن اپنی پشت پر آلات کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتے۔اُن کے بنائے فن پارے سوشل میڈیا اور حقیقی زندگی میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
فن پارے بنانے کی یہ تیکنیک ہیلیو گرافی کہلاتی ہے۔ مائیکل نے 2012ء میں سورج کی شعاعوں سے فن پارے بنانے شروع کیے تھے۔ 2016ء میں انہوں نے سن سکرائبز کے نام سے کمپنی بھی قائم کر لی۔
مائیکل نے بتایا کہ وہ 2013ء میں امریکا واپس آئے اور کولوراڈو منتقل ہو گئے۔یہاں انہوں نے سورج کی روشنی پر تجربات شروع کر دئیے۔انہوں نے دیکھا کہ لینز سے منعطف شدہ اور شیشے سے منعکسہ روشنی کے خواص میں فرق ہوتا ہے۔
آج مائیکل سورج کی شعاعوں سے فن پارے بناتے ہیں، لائیو شوز کرتےہیں اور ہیلیوگرافی سیکھنےکے خواہشمندوں کا یہ فن سکھاتے بھی ہیں۔سوشل میڈیا پر اُن کی ویڈیوز لاکھوں بار دیکھی جاتی ہیں۔ مائیکل کے بنائے چند فن پارے آپ بھی دیکھیں۔

The post یہ فنکار لکڑی کو سورج کی روشنی سے جلا کر شاہکار فن پارے تخلیق کرتا ہے appeared first on Urdu News.