سالوں پہلے شوکت تھانوی نے کہا تھا، اور کیا خوب کہا تھا …؎ہم پڑوسی سے لڑیں، یہ ہمیں منظور نہیں ۔۔ اور پڑوسی ہی لڑے تو ہم معذور نہیں ۔۔ پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارتی قیادت جس جنون اور ہذیان کی کیفیت میں ہے، یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ہم صدیوں سے ان کے ساتھ رہتے چلے آ رہے ہیں، ان کی اسی تنگ نظری، تعصب، تکبر اور اخلاقی گراوٹ کی وجہ سے قائداعظم محمد علیؒ جناح ایک الگ وطن کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوئے اور کانگریسی قیادت کی بھرپور کوششوں کے باوجود اقبال کے خواب کو شرمندئہ تعبیر کر کے رہے۔ آج بھارتی قیادت جس طرح کا کردار ادا کر رہی ہے، اسی (80) سال پہلے، نہرو، پٹیل اور گاندھی کے ساتھ ساتھ ساری کانگریس پارٹی نے بھی یہی کردار ادا کیا تھا۔ آج جس انداز میں مودی سمیت پوری بھارتی قیادت آہ و بکا کا طوفان اٹھانے کے بعد گیدڑ بھبکیوں پر اتر آئی ہے، یہ ڈرامہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کے کردار اپنی اپنی جگہ اپنا اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تاریخ کیا ہے لیکن افسوس، ہم نے تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ مجھ جیسے چند بوڑھے بار بار قوم کو بتاتے ہیں کہ ان کی روایات کیا ہیں اور ہمارا پالا کس قوم سے پڑا ہے۔ کبھی کبھی تو ان لوگوں کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ یہ اپنے ’’سکرپٹ‘‘ میں تھوڑی سی تبدیلی بھی نہیں کرتے، یہاں تک کہ ڈائیلاگ میں تھوڑے بہت لفظی ہیر پھیر کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ ظاہر میں تبدیلی لانے کے لئے باطن کو تبدیل کرنا پڑتا ہے، ان لوگوں کی ذہنیت آج تک تبدیل
نہیں ہوئی، اس لئے ان کے الفاظ، کردار اور عمل و ردِعمل بعینہٖ وہی ہے جو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔ان کی لن ترانیوں اور لاف گزانیوں کا حل یہی ہے: ’’اور پڑوسی ہی لڑے ہم سے تو معذور نہیں!‘‘ یہ دنیا کی ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ ہونے کا بہت ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی کا ملک اگر سب سے بڑی جمہوریت (نام نہاد) بن گیا تو اس میں ان کا کیا کمال ہے؟ بڑی جمہوریت آبادی سے نہیں، کردار سے بنتی ہے۔ ان کا کردار جاننا ہو تو جو چند بچے کھچے دیانتدار اور صاف گو صحافی باقی رہ گئے ہیں، ان کی تحریریں پڑھ لیجئے یا یو ٹیوب پر دستیاب پروگرام دیکھ لیجئے۔ دنیا کے سب سے بڑے ’’لوک تانتر‘‘ کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ زیادہ دور مت جایئے، یہی دیکھ لیجئے کہ پچھلے چند دنوں سے دنیا کی سب سے بڑی اور ’’سیکولر‘‘ جمہوریت کس طرح ’’ بھارتی آمریت‘‘ کے بوجھ تلے دبی کراہ رہی ہے۔ کیا بھارتی عصبیت کا وہ بھیانک چہرہ کھل کر سامنے نہیں آ گیا جسے یہ ’’سیکولرازم‘‘ کے دریدہ نقاب کے پیچھے چھپانے کی اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں؟ یہ بھارتی وہ چہرہ ہے جو ’’بھارتی مسلم‘‘ کو اپنا حصہ ماننے سے
نہ صرف انکار کر رہا ہے بلکہ ریاستی جبر کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اسے کھدیڑ نکالنے، یا اگر ہو سکے تو، ختم کر ڈالنے کی فکر میں ہے۔ ان کی دستبرد سے ان کے اپنے بھی محفوظ نہیں یہاں تک کہ ’’انسانیت کا ورثہ‘‘ کہلانے والے فنکار بھی محض مسلمانوں جیسے نام رکھنے کی پاداش میں ان کے نشانے پر آ گئے ہیں۔عالمی پہچان کے حامل یہ فنکار بھی اب بھارت چھوڑنے کی سوچ رہے ہیں۔ اگر ایسے لوگ بھارت میں محفوظ نہیں تو پھر عام مسلمان کا کیا حال ہوگا؟ بھارت کے اس رویئے سے قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے نظریئے پر تصدیق کی مہر ثبت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ہندوستان اگر تقسیم ہوا، ’’بھارت ماتا‘‘ کے اگر دو ٹکڑے ہوئے تو اسی ہندوتوا ذہنیت کی بدولت، مگر الزام لگا اقبالؒ، جناحؒ اور مسلم لیگ پر (جیسے آج کل بھارت کی اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان کے سر ڈالا جا رہا ہے)۔آج کے دور کا جائزہ لیجئے۔ کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہ دینا، دھونس اور جبر سے اپنا قبضہ جمائے رکھنا، آزادی کے متوالوں کو دہشت گرد قرار دینا، اور ’’دہشت گردوں‘‘ کے خلاف کارروائی کرنے کے بہانے معصوم کشمیریوں کو خاک و خون میں غلطاں کرنا، ان کے بچوں
کو پیلٹ گنوں سے عمر بھر کے لئے نابینا کرنا، ان کی بچیوں اپنی ہوس کے زنداں میں قید کرنا، اور ان کے بوڑھوں کو جوانوں کے لاشے اٹھانے پر مجبور کرنا… یہ سب صرف اس لئے کہ کشمیری مسلمان ہیں اور کمزور ہونے کے باوجود آزادی مانگتے ہیں جو ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو دیمک چاٹ گئی، انسانی حقوق کے علمبرداوں کے گلے چیخ چیخ کر بیٹھ گئے، خود بھارت میں کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر سوال اٹھائے جانے لگے لیکن مجال ہے جو ’’برہمنی جمہوریت‘‘ کے نام لیوائوں کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔ اسے ’’ہندوآنہ دہشت گردی‘‘ کا نام نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے؟پڑوسی کے گھر میں آگ لگانا، بم دھماکے کروانا، قتل و غارت کا بازار گرم کرنا، کلبھوشن جیسے تخریب کاروں کو بھیج کر ایک بار پھر پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی تدبیر کرنا، بلوچستان اور کراچی کا امن تباہ کرنا، اور پھر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینا… سچ پوچھئے تو حقیقی دہشت گردی یہی ہے۔گزشتہ تین چار دنوں میں جو کچھ ہوا، اس میں ایک بار پھر وہی ڈرامہ کھیلا گیا جو اس سے پہلے کئی موقعوں پر منظر عام پر آ چکا
ہے۔ پلوامہ میں ایک خودکش حملہ ہوا، سی پی آر ایف کے چالیس سے زائد جوان مارے گئے، حملہ کرنے والا کشمیری، حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے کشمیری، حملے میں جو کار استعمال ہوئی وہ کشمیر کی اور جو بارود استعمال ہوا وہ بھی کشمیر کا… مگر بھارتی کارپردازوں نے الزام کس پر لگایا؟ پاکستان پر۔ ابھی تفتیشی ایجنسیاں جائے وقوعہ پر پہنچی بھی نہیں تھیں کہ بھارتی میڈیا کی سکرینوں اور صفحات پر پاکستان کے خلاف چیخم دھاڑ شروع ہو گئی۔ آسمان سر پر اٹھا لیا گیا۔ عدل و انصاف کی دہائی دی جانے لگی۔ انتقام کے مطالبے ہونے لگے۔ پاکستان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کے دعوے ہونے لگے۔ایسا ہی ایک ڈرامہ قریباً دو سال پہلے اوڑی میں ہونے والے حملے کے بعد بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ تب بھارتی حکومت نے اپنی غلطیوں اور نکمے پن پر پردہ ڈالنے کے لئے اور اپنی بھڑکی ہوئی ’’جنتا‘‘ کو شانت کرنے کے لئے ’’سرجیکل سٹرائیکس‘‘ ڈھونگ رچایا۔ دعویٰ کیا کہ ہمارے ’’شیر جوان‘‘ لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے علاقے میں گھسےاور ’’دہشت گردوں‘‘ کے ٹھکانے تباہ کر دیئے۔ خوب جشن منائے گئے، نفیریاں تاشے بجائے گئے، یہاں تک کہ اس پر
بالی ووڈ 1اب پلوامہ کے جواب میں ’’ایئر سٹرائیکس‘‘ کا جو دعویٰ کیا گیا، اس کے بعد اسی طرح کے جشن کی ابتدا ہو چکی تھی، ٹی وی چینلز گلا پھاڑ پھاڑ کے اپنی فتح کا اعلان کر رہے تھے، ’’دیش بھگت‘‘ اداکار اپنی افواج کی ’’بہادری‘‘ کے قصیدے پڑھتے ہوئے نظر آ رہے تھے، مودی جی ’’چھپن انچ کا سینہ‘‘ پھلا پھلا کر تقریریں کر رہے تھے اور دو ماہ بعد ہونے والے الیکشن میں اپنی پارٹی کے لئے ووٹ بھی مانگ رہے تھے کہ پاکستان نے جواب دینے کا فیصلہ کر لیا۔پاکستان کا جواب کیا تھا؟ اس کا احوال ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتمان سے پوچھئے ، مشتعل ہجوم سے بچانے پر پاکستانی فوج کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی فوج کے ’’پروفیشنل ازم‘‘ کی تعریف کر تا ہے۔ بتانے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کا جواب موصول ہونے کے بعد کے کم و بیش چوبیس گھنٹے تک بھارتی وزیراعظم نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔ حکومت کے ایک جونیئر افسر نے پہلے سے تیار شدہ ایک بیان پڑھ کر میڈیا کو سنایا اور کوئی سوال جواب کرنے سے معذرت کر لی، بیان سنانے کے دوران انڈین ایئرفورس کے ایئرمارشل ان کے پہلو میں بیٹھے رہے لیکن کچھ کہے سنے بنا اٹھ کر چلے گئے، بھارتی
نیوز چینلز پر مرجھائے ہوئے ہیں، سب کی ’’ٹون‘‘ دھیمی ہو گئی ہے، امن و شانتی کی باتیں کی جا رہی ہیں، تنائو کو آگے نہ بڑھانے کا سبق پڑھایا جا رہا ہے اور کچھ ہمت والے تو ایسے بھی ہیںجنہوں نے اپنی حکومت کے ’’بدلہ‘‘ لینے کے دعوے پر سوال بھی اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ان ساڑھے تین سو ’’دہشت گردوں‘‘ کی لاشیں کہاں ہیں جنہیں مار گرانے بلکہ اڑانے کا دعویٰ آپ نے کیا تھا؟ اس کیمپ کا ملبہ یا بچا کچھا نشان کہاں ہے جس پر آپ کے میراج طیاروں نے ’’پے لوڈ‘‘ گرایا تھا؟ ہر لڑاکا طیارے میں کیمرے نصب ہوتے ہیں، کیا ہمارے ’’جانبازوں‘‘ نے اپنی ’’دلیرانہ‘‘ کارروائی کے ثبوت کے طور پر کوئی تصویر نہیں کھینچی؟ اگر کھینچی ہے تو وہ کہاں ہے؟ کہیں مودی جی یہ سب ناٹک رچا کر اپنی پارٹی کے دوبارہ الیکشن جیتنے کی راہ تو ہموار نہیں کر رہے؟؎جنگ جو ہیں اور گلے میں شانتی کا ڈھول ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے اپنے پڑوسی کو بات بڑھانے کے نتائج و عواقب سے خبردار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ کیسی مزے کی بات ہے کہ عمران خان کے پہلے خطاب کے ایک ایک حصے کی بھارتی میڈیا میں تشریح و
تعبیر کی گئی، اور سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران پلوامہ میں ہونے والے حملے کی مذمت کیوں نہیں کی؟ یہ وہی میڈیا ہے جو پہلے اپنی حکومت کی دی ہوئی اس لائن کو دہراتا رہتا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں اگر پاکستان دہشت گردی پر بات کرنے پر راضی ہو۔ مگر عمران خان کے خطاب کے اس حصے پر کسی نے ایک لفظ کا تبصرہ نہیں کیا کہ اگر آپ دہشت گردی پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں۔ عمران خان کے دوسرے خطاب کے بعد سے ’’Say No To War‘‘ کا ہیش ٹیگ انڈیا میں بھی ٹرینڈ کرنے لگا ہے، آخر کیوں نہ کرتا؟ لگتا ہے انڈیا والوں کو بھی ہمارا پیغام سمجھ آ گیا ہے کہ: ہم پڑوسی سے لڑیں، یہ ہمیں منظور نہیں ۔۔ اور پڑوسی ہی لڑے تو ہم معذور نہیں۔
The post ہم پڑوسی سے لڑیں یہ ہمیں منظور نہیں ، اور پڑوسی ہی لڑے تو ہم معذور نہیں : خان جی : بھارت کی الزام ترانیاں ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ۔۔۔۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان کا عمران خان کو شاندار مشورہ appeared first on Urdu News.