گلے کی تکلیفیں ’آلائچی‘ سے دُور کریں۔۔ انتہائی آسان طریقہ

سینے کی جکڑن، گلے کی سوزش اور خشک کھانسی آج کل بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہےجس کی شکایت اکثر لوگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تمام ایسی بیماریاں ہیں جن میں اکثر ہی انسان مبتلانظر آتا ہے۔بظاہر یہ عام ہونے والی بیماریاں ہیں لیکن ان کے ہوتے ہی مشکلات کی ایک لائن لگ جاتی ہے جن میں کھانا نہ کھانے کا دل چاہنا، منہ کا ذائقہ تبدیل ہوجانا، بے آرامی اور گلے میں درد ہونا وغیرہ شامل ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ان تمام تکالیف کا علاج گھر کے چکن میں موجود چیزوں سے با آسانی کیا جاسکتا ہے اور آلائچی ان میں سے ایک ہے۔ماہرین صحت کے مطابق آلائچی کو چبانے سے اس میں سے تیل نکلتا ہے جو کہ نظام انہضام کے لیے بے حد مفید ہے۔ یہ گلے کی تکلیف، کانسی اور سردی جیسی بیماریوں سے بھی نجات دلاتی ہے۔ ایک چھوٹی سی سبز آلائچی میں چند ایسے غذائی اجزاء موجود ہیں جوانسانی صحت کو تندرست اور توانا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔گلےکی تمام تکالیف کا گھریلو علاج ’آلائچی‘ سےکیسے کریں؟کھانسی کا علاج:کھانسی سے نجات پانے کے لیے
ایک چٹکی آلائچی پائوڈر،ایک چٹکی نمک، ایک چائے کا چمچہ گھی اور آدھا چائے کا چمچہ خالص شہد لیں اوران تمام اشیاء کو مکس کر کے کھا لینے سے کھانسی میں سو فیصد آرام آئے گا۔خشک کھانسی کے لیے:خشک کھانسی کو دور کرنے کے لیے سبز آلائچی اور لونگ کو ملا کر کھا لینے سے کھانسی ختم ہوجائے گی۔کھانسی اور سینے کی جکڑن کا علاج:
کھانسی کے ساتھ ہی سینے کی جکڑن کے آرام کے لیے الائچی اور مصری 1 اور3 کے تناسب سے لیں اس کے بعد دونوں اشیاء کو اچھی طرح پیس لیں پھر دن میں تین مرتبہ اس پائوڈرکو (ایک چائے کا چمچہ) ایک گلاس پانی کے ساتھ کھالینے سے موثر نتائج سامنے آئیں گے۔ سردی کا علاج :سردی لگ جانے کی صورت میں اس سے بچائو کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آلائچی کی چائے بنا کر پی لی جائے،
یہ سردی کو دور کرنے کے لیےنہایت بہترین اور آسان عمل ہے۔اس کے علاوہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گلے کی سوزش، کھانسی، نزلہ اور دیگر گلے کی بیماریوں سے بچائو کے لیے اپنے کھانوں میں آلائچی کا استعمال باقاعدگی سے
کریں۔گلے کی بیماریوں کے علاوہ آلائچی اور بھی دوسری بیماریوں کے لیے مفید ہے جن میں بدہضمی، سانس اور منہ کی بد بوکو ختم کرنا، تیزابیت کی شکایات، بلڈ پریشر اور دل کے امراض سے بچناشامل ہے
The post گلے کی تکلیفیں ’آلائچی‘ سے دُور کریں۔۔ انتہائی آسان طریقہ appeared first on Urdu News.