اسلام آباد (ویب ڈیسک) گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مابین ملاقات ہوئی۔ لیکن اس ملاقات کے باوجود اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کا امکان مسترد ہو گیا۔ دونوں پارٹیوں کے اہم رہنماؤں نے گرینڈ اپوزیشن الائنس بننے کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنما
نے واضح طور پر نواز شریف کے قریبی حلقوں کو کہہ دیا ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیں بچانے نہیں بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہمیں استعمال کرنا چاہتی ہے ، ہم کسی بھی صورت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے ۔قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بلاول بھٹو نے جب گرینڈ اپوزیشن کی بات کی تو نواز شریف نے ہنستے ہوئے کہا کہ ابھی انتظار کرنا چاہئیے۔ذرائع کے مطابق اسی طرح پیپلز پارٹی کے اندر بھی اعتزاز احسن سمیت کئی اہم رہنماؤں کا یہ واضح طور پر کہنا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ جانے سے پنجاب کے اندر پارٹی پوزیشن مزید خراب ہو گی اور اس سے تحریک انصاف کو فائدہ پہنچے گا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے آصف زرداری اور بلاول بھٹو اورن لیگ کے مریم نواز شریف اور نواز شریف چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ مل کر دوبارہ میثاق جمہوریت اور ایک دوسرے کو بچانے کے لیے کردار ادا کریں لیکن ان دونوں جماعتوں کے اندر موجود کئی اہم رہنماؤں نے نہ صرف اس پر مخالفت شروع کر
دی ہے بلکہ واضح طور پر اس سے انکار بھی کر دیا۔ذرائع کے مطابق ان حالات میں آئندہ گرینڈ اپوزیشن کا ہونے والا اجلاس اور حکومت کے خلاف تحریک چلتی نظر نہیں آ رہی جبکہ ذرائع نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ مارچ اور اپریل میں پیپلز پارٹی کی دو اہم شخصیات، جن کا تعلق سندھ سے ہے ، کی گرفتاری بھی متوقع ہے جس کے بعد گرینڈ اپوزیشن کا خیال اور تیاریاں مزید ختم ہو جائیں گی۔ واضح رہے کہ اس سےقبل بھی جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد کی بات ہوئی تو تب بھی مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے آصف زرداری اور پیپلز پارٹی رہنماؤں کے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
The post گرینڈ اپوزیشن الائنس کو دھچکا،پیپلزپارٹی کا ہم سے ملاقات کا مقصد کیا تھا؟ ن لیگ نے وجہ بتا دی appeared first on Urdu News.