کراچی کی متعدد کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹیز کی زمینوں پر قبضہ کرنے والی طاقتور مافیا آزاد ،ہزاروں خاندان اپنے ذاتی گھروں سے محروم

کراچی: کی متعدد کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹیز کی زمینوں پر قبضہ کرنے والی طاقتور مافیا آزاد ،ہزاروں خاندان اپنے ذاتی گھروں سے محروم ،برسوں گزرجانے کے باوجود نیب کی جانب سے انصاف حاصل نہیں کرسکے

صوبائی احتساب بیورو سندھ کی کرشمہ سازی

لینڈ مافیا کے خلاف تحقیقات سرد خانے کی نذر

رپورٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید منور علی پیرزادہ

سندھ کی متعدد کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹیز میں قبضہ کرنے والی مافیا کی جانب سے صوبائی احتساب بیورو سندھ نے پراسرار چشم پوشی اختیار کررکھی ہے،یہی وجہ ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں خاندان ابتک اپنے ذاتی گھروں سے محروم ہیں جس کی وجہ نیب میں جمع کرائی جانے والی متعدد درخواستوں پر برسوں گزرجانے کے باوجود ابتک درست انداز میں تحقیقات کا شروع نہ ہونا بتایا گیا ہے ، متاثرین کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی سے تعلق ظاہر کرنے والے عناصر زمینوں پر قبضہ کرنے میں ملوث ہیں جو مختلف سرکاری اداروں میں گہرا اثرورسوخ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صوبائی احتساب بیورو سندھ کے افسران نے لینڈ مافیا کے خلاف وصول ہونے والی درخواستوں کو ردی بنا رکھا ہے ،جیسا کہ ماضی میں پی سی ایس آئی آر سوسائٹی میں لینڈ مافیا کے اہم کارندے اعجاز شاہ کو محکمہ کو آپریشن کی جانب سے پہلے ایڈ منسٹریٹر مقرر کیا گیا بعد میں اس کی تعیناتی کے آڈر کو منسوخ کیا گیا مگر جب تک لینڈ مافیا کا یہ کارندہ اپنے گروپ کے ذریعے کروڑوں روپے مالیت کی اراضی کو جعلسازی سے فروخت کرچکا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل نیب الطاف باوانی کی جانب سے کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹیز میں ہونے بے ضابطگیوں سے متعلق اعلیٰ سطحی تحقیقات کا فیصلہ ہونے کے باوجود نیب افسران کی جانب سے انہیں درست آگاہی فراہم نہیں کی جارہی ہے کیونکہ لینڈ مافیا سے متاثرہ سوسائٹیز میں تاحال لینڈ مافیا کے عناصر الاٹ شدہ پلاٹوں کو جعلسازی سے فروخت کررہے ہیں،ذاتی ملکیت شدہ پلاٹوں سے محروم سوسائٹیز کے متاثرین کا کہنا ہے کہ ڈی جی نیب اور محکمہ کو آپریشن کے سیکریٹری نسیم الغنی سہتو اس حوالے سے ازخود چھان بین کروائیں کہ تاکہ انہیں حقیقت کی آگاہی ہوسکے ، واضح رہے کہ کراچی کی متعدد کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹیز میں گھپلوں کا آغاز زیادہ تر ایڈ منسٹریٹر کی تعیناتی کے بعد سے ہوتا ہے ،جس میں زیادہ تر ایڈ منسٹریٹرز سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر مقرر کیے جاتے رہے ہیں تاہم نیب کے ایک ذمہ دار ذرائع کے مطابق اس وقت مجموعی طور پر 18کو آپریٹیو سوسائٹیز میں ایڈ منسٹریٹر مقرر ہیں لیکن سوسائٹیز کے متاثرین کا کہنا ہے کہ متعدد سوسائٹیز میں لینڈ مافیا کے مختلف گروہ سرگرم ہیں جو زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں جعلی دستاویزات پر فروخت بھی کررہے ہیں جس جانب سے نیب اور محکمہ کو آپریشن نے پراسرارخاموشی اختیار کررکھی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.