کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع فیکٹری کے برطرف ملازم نے اسلحے کے زور پر ساتھیوں کو یرغمال بنا لیا ۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ فیکٹری کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ سلیم شہزاد نامی شخص کا کہنا ہے کہ اسے دو ماہ کی تنخواہ دیے بغیر ہی نکالا گیا ہے ۔ مسلح شخص کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس دھماکا خیز مواد بھی موجود ہے ۔ صورتحال سے نمٹنے کیلئے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا ہے ۔
اس حوالے سے ایس ایس پی ملیر منیر شیخ کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان اور انتظامیہ سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ، سلیم کے مطالبات کو منظور کرلیں گے ۔ ایس ایس پی ملیر منیر شیخ نے کہا کہ معاملہ پولیس کو ہنیڈل کرنے دیا جائے ، ابھی راستے میں ہوں اور کچھ دیر میں فیکٹری پہنچ جاؤں گا ۔ اطلاعات کے مطابق نوکری سے نکالنے پر نوجوان نے کرشنگ پلانٹ میں ملازمین کویرغمال بنایا ہے جہاں 8 سے 10 ملازم موجود ہیں ۔ صورتحال پر قابو پانے کیلئے رینجرز اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں ۔ ساتھیوں کو یرغمال بنانے والے فیکٹری ملازم سے پولیس کے مذاکرات جاری ہیں ۔