کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کے علاقہ کلفٹن بلاک 4 میں دہشتگردوں نے آج صبح چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔ حملے میں پولیس اور رینجرز کی جوابی کارروائی میں تین دہشتگرد بھی ہلاک ہوئے ۔ تاہم اب اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند تنظیم ”بلوچ لبریشن آرمی” نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند تنظیم ”بلوچ لبریشن آرمی” کے ترجمان نے فون پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوے۔
بی بی سی کو بتایا کہ ان کے تین ارکان اس کارروائی میں شامل ہیں اور یہ چین کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ترجمان جیہاند بلوچ نے فون پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مجید بریگیڈ کے تین فدائین اس کارروائی میں شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ چین کے لیے ایک تنبیہہ ہے کہ وہ ہماری زمین پر قبضے کی کوشش چھوڑ دے ورنہ مستقبل میں اسے مزید سنگین معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ چینی قونصلیٹ پر دہشتگردوں کے حملے پر پولیس اور رینجرز نے بھرپور جوابی کارروائی اور چینی قونصلیٹ میں داخل ہونے کی دہشتگردوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں تینوں دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا جس کے بعد قونصلیٹ کو کلئیر قرار دے دیا گیا ۔
اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی پولیس اور رینجرز نے چینی قونصل خانے پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔ تین دہشتگردوں نے چینی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ۔ جوابی کارروائی میں تینوں دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اب صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔ پولیس حکام کے مطابق چینی قونصل خانے میں کلئیرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جس کے بعد قونصلیٹ کو کلئیر قرار دے دیا گیا ہے۔ جلد ہی علاقہ کو کلیئرکردیا جائے گا۔چینی قونصل خانے پر دہشتگرد حملے کے بعد ملک بھر میں موجود قونصل خانوں کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
The post چینی قونصلیٹ پر حملہ ہم نے کیا، ذمہ داری قبول کر لی گئی،دشمن نے ساتھ ہی سنگین دھمکی بھی دیدی appeared first on Urdu News.