نئی دہلی (ویب ڈیسک) پاکستان نے خطے کے امن اور پاکستان اور بھارت کی عوام کے تحفظ کی خاطر بھارت کی جانب دوستی اور امن مذاکرات کے لیے بارہا ہاتھ بڑھایا لیکن ہر مرتبہ بھارت نے پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری سمجھا اور خود اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے بعد بھارت نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کر دیا ہے۔جس کے تحت بھارت نے پاکستان سے 20 مفرور افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان مفرور افراد میں زیادہ تعداد خالصتان تحریک سے جُڑے سکھ رہنماؤں کی ہے۔ بھارت نے پاکستان سے ان تمام افراد کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس حوالے سے پاکستان کو 20 مفرور افراد کی ایک فہرست بھی دے دی ہے۔ اس فہرست میں خالصتان تحریک سے جُڑے اہم رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں۔
بھارت کی جانب سے فراہم کی جانے والی فہرست میں ببر خالصہ کے رہنما ودھاوا سنگھ، خالصتان زندہ باد تحریک کے رہنما سردار رنجیت سنگھ، خالصتان کمانڈو فورس کے رہنما سردار پرم جیت سنگھ پنجوار اور انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن کے رہنما لکھبیر سنگھ اور ہیپی سنگھ کے نام شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہرمعاملے کی طرح بھارت نے خالصتان تحریک کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا تھا۔بھارت کا مؤقف ہے کہ پاکستان بھارت میں سکھ برادری کی خالصتان تحریک کے سرپرستی کر رہا ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا۔ ذرائع کے مطابق جن افراد کی فہرست بھارت کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی گئی ہے ان میں سے کوئی بھی سکھ رہنما پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت سے کسی طور بھی اچھائی کی اُمید نہیں رکھی جا سکتی ، پاکستان نے بغیر کسی شرط کے بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا ، جس کے بعد اب بھارت پاکستان سے مزید مطالبہ کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان بھارت کا ہر مطالبہ مانے جو کہ سراسر احسان فراموشی ہے۔
The post پڑوسی ملک اوقات سے باہر۔۔۔ابھی نندن کی رہائی کے بعد پاکستان سے ایک اور مطالبہ کر دیا appeared first on Urdu News.