پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان پر اظہار اطمینان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات 2018ء میں نمایاں کامیابی حاصل کی جس کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف نہ صرف خیبرپختونخواہ میں بلکہ مرکز اور پنجاب میں بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ملک میں حقیقی تبدیلی دیکھنے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے پر بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی اطیمنان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ملکی معیشت اس وقت تباہ حال ہے اور قرضوں کا بوجھ بڑھ چکا ہے، معیشت میں بہتری لا کر ملکی حالات ٹھیک کرنا آنے والی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس موقع پر اپنے ملک کو اکیلا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور عمران خان اور ان کی پارٹی قیادت پر اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے عطیات اکٹھا کرنا شروع کر دئے ہیں۔
قومی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ میں مقیم وقار خان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ہر ریاست میں رہنے والے پاکستانی افراد انفرادی طور پر عطیات اکٹھے کررہے ہیں جو نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان بھجوادئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان پر پورا اعتماد ہے کہ وہ ان کے اکٹھے کئے ہوئے عطیات سے متعلق کوئی فراڈ نہیں کریں گے اور ان پیسوں کو صرف غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں گے ۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی شہری یہ بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں اپنے خاندانوں کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ ڈالرز بھجوائیں تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوسکے اور ملک کی معیشت مستحکم ہونے میں مدد مل سکے۔ امریکہ سے آئے ڈاکٹر ثاقب نے بتایا کہ امریکہ میں ڈاکٹر کیمونٹی اور دیگر پروفیشنلز کی ایسوسی ایشنز بھی فنڈز اکٹھے کررہی ہیں۔
ایک ہزار پاکستانی ڈاکٹرز، جو امریکہ میں رہائش پذیر ہیں، کم از کم رقم مقرر کر کے فی ڈاکٹر اکٹھا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے لیے اب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے رابطے تیز کردئے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو عمران خان پر اعتماد ہے کیونکہ ماضی میں شوکت خانم اسپتال کے لیے دیئے گئے عطیات کا استعمال پوری ایمانداری سے ہوچکا ہے ۔
عمران خان کی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ ایک مخصوص اکاؤنٹ کھولیں جس میں ہم لوگ ڈالر جمع کروائیں گے جس کی نگرانی متوقع وزیراعظم عمران خان خود کریں اور یہ رقم اسی مقصد کے لئے استعمال ہوسکے گی۔ امریکہ میں ڈاکٹر کمیونٹی کے سابق عہدیدار اور پی ٹی آئی کے متحرک رکن ڈاکٹر نصراﷲ اس کام کے لیے بہت زیادہ متحرک ہوچکے ہیں۔ امریکہ میں دنیا کے 216 ویں پاکستانی امیرشخص شاہد خان سے بھی رابطہ کیا گیا کہ وہ بھی ان عطیات میں حصہ ڈالیں۔
برطانیہ میں مقیم امانت علی انجم نے بتایا کہ عطیات اکٹھے کرنے کا کام برطانیہ میں بھی جاری ہے اس طرح کی مہم جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں بھی ہورہی ہے ۔ انہوں نے آنے والی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیرون ممالک بینکوں میں پڑا پیسہ واپس لانے میں عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کریں اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے کوشش بھی کریں ۔ مینی سوٹا سے اے جے صدیقی نے بتایا کہ پاکستانیوں سےعطیات اکٹھے کئے جارہے ہیں جو پاکستان کے بیرونی قرض اُتارنے کے لیے بھجوائے جائیں گے ،ہم ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں عمران خان پر پورا اعتماد ہے اور یہ کہ ہم پاکستان میں خوشحالی اور امن دیکھنا چاہتے ہیں۔