نیوزی لینڈ (نیو زڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النورمسجد اور لِین وڈ میں واقع مسجد میں گذشتہ روز جمعہ کی نماز کے دوران سفید فام انتہاء پسندوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 49 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے بعد مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ کی والدہ اور بہن روپوش ہو گئے۔ حملے پر رد عمل دیتے ہوئے برینٹن کی دادی کا کہنا تھا کہ وہ ایک اچھا انسان تھا، جس برینٹن نے مساجد پر حملہ میں اس سے ناواقف ہوں۔94 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ برینٹن کی یہ کارروائی پورے خاندان کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹن کی والدہ پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہیں۔ جب حملہ ہوا اُس وقت وہ ایک مقامی اسکول میں انگریزی کا لیکچر دے رہی تھیں اور تب ہی انہیں علم ہوا کہ ان کے بیٹے نے دو مساجد پر فائرنگ کی ہے۔اطلاعات ہیں کہ انسداد دہشتگردی فورس کی جانب سے پوچھ گچھ کے بعد برینٹن ہیریسن کی ہمشیرہ روپوش ہو گئی ہیں۔برینٹن کے اہل خانہ نے جیسے ہی ٹی وی پر اس کی شناخت کی فوری طور پر پولیس سے رجوع کیا۔ برینٹن کی دادی کا کہنا تھا کہ برینٹن سے متعلق یہ خبر دل دہلا دینے والی اور ناقابل یقین ہے کیونکہ وہ ایک نہایت اچھا انسان تھا۔
وہ ہمیشہ سے رحمدل تھا اور سال میں دو مرتبہ ہم سے ملنے بھی آیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا اُس کی باتوں سے کبھی انتہا پسندی کی کوئی جھلک محسوس نہیں ہوئی۔یاد رہے کہ سانحہ کرائسٹ چرچ کے مرکزی ملزم کو آج صبح کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ جہاں عدالت نے اس کا 5 اپریل تک ریمانڈ منظور کر لیا۔ 28 سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ہیریسن نے عدالت میں پیشی کے دوران ریلیف یا ضمانت کی اپیل نہیں کی نہ ہی برینٹن کے وکیل نے ایسا کوئی مطالبہ عدالت کے سامنے رکھا۔ اس واقعہ کی تحقیقات میں نیوزی لینڈ پولیس کر رہی ہے جس میں آسٹریلوی پولیس بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مائیک ولنگ کا کہنا ہے کہ خطے کا انسداد دہشتگردی یونٹ بھی اس سلسلے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔برینٹن نے عدالت میں کسی سے کوئی گفتگو نہیں کی اور خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن دوران سماعت برینٹن انتہا پسند سفید فام تنظیم کا نشان بناتا رہا۔ یہی نہیں کمرہ عدالت میں برینٹن بالکل خاموش تو رہا لیکن ٹکٹکی باندھ کر صحافیوں کو دیکھتا رہا اور کھسیانی ہنستی ہنستا رہا۔ دنیا بھر کے لوگ اس سفاکانہ کارروائی پر برینٹن کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
The post ’’ وہ ایک اچھا اور رحمد ل انسان تھا لیکن ۔۔۔‘‘،’برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ‘ نے جب مساجد پر حملہ کیا اس وقت اسکی ماں اور بہن کیا کر رہی تھیں؟ سفید فام دہشتگرد کی دادی کا تہلکہ خیز انکشاف appeared first on Urdu News.