نئی دہلی (اُردو نیوز) انتخابات جیتنے کے لیے بھارتی حکومت کی جنگ پالیسی پر بھارتی تجزیہ کاروں، صحافیوں اور سابق فوجیوں پر مشتمل سول سوسائٹی نے مودی سرکارکو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ ٹوئٹر پر سے نوٹووار ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق جنگ نہیں امن چاہئے، بھارت میں ٹوئٹر پر سے نو ٹو وار (جنگ کو انکار کرو) ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
بی جے پی پلاٹ فار ووٹ (بی جے پی کا الیکشن ڈرامہ) بھی ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔بھارتی تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ نامور بھارتی تجزیہ کار رونک کپور کا کہنا تھا کہ پاکستان یا بھارت میں کوئی شہری جنگ نہیں چاہتا۔ مذاکرات کو ترجیح دینی چاہئے، عمران خان کے الفاظ سراہے جانے کے قابل ہیں۔
اشوک سوین نامی ایک بلاگر کا کہنا تھا کہ مودی کی اپنی بدعنوانیوں سے توجہ ہٹانے کی چال بھارت کو بہت مہنگی پڑی۔
جنوبی ایشیا میں کسی بھی جنگ کا ذمہ دار صرف مودی ہوگا۔ ایک بھارتی شہری نے بی جے پی فار انڈیا کے ہیش ٹیگ کیساتھ لکھا، شیم آن یو فار یور ڈرٹی پولیٹکس (مودی تمھیں اپنی گھٹیا سیاست پر شرم ا?نی چاہئی)۔ بی جے پی پلاٹ فار ووٹ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک شہری کا کہنا تھا کہ دہلی میں ایک پاگل شخص گھوم رہا ہے جو انتخابات جیتنے کے لیے کچھ بھی تباہ کر سکتا ہے۔
The post ووٹ کیلئے جنگ پالیسی، نریندرا مودی پر بھارتی سول سوسائٹی کی کڑی تنقید appeared first on Urdu News.