اسلام آباد (اُردو نیوز) وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے ایک اور رکن نے استعفیٰ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق ماہر معاشیات ثاقب شیرانی نے اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ ثاقب شیرانی کا کہنا ہے کہ نجی وجوہات کی بنا پرکونسل چھوڑرہا ہوں۔ذرائع کے مطابق استعفے کی وجہ کچھ اور ہے اور وہ وجہ ضمنی فنانس بل میں کونسل سے مشاورت نہ کئے جانا ہے۔
خیال رہے ماہر معاشیات ثاقب شیرانی ریونیو اور اکنامکس پرایڈوائیزری فراہم کر رہے تھے، کونسل سے اب تک چار ممبران مستعفیٰ ہوچکے ہیں، کونسل میں اٹھارہ ممبران تھے، لیکن اب چودہ باقی رہ گئے ہیں۔یاد رہے کہ ستمبر 2018ء میں حکومت کی جانب سے اقتصادی مشاورتی کونسل سے ماہر معاشیات عاطف میاں کی نامزدگی واپس لینے کے بعد انہوں نے اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت چھوڑ دی تھی اور استعفیٰ حکومت کو بھجوادیا تھا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی اقتصادی مشاورتی کونسل میں عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات عاطف میاں کی نامزدگی کی وجہ سے سوشل میڈیا اور مذہبی تنظیموں میں ایک اضطراب پیدا ہو گیا تھا اور عاطف میاں کی کونسل میں نامزدگی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کے بعد عاطف میاں کی نامزدگی واپس لے لی گئی تھی۔ عاطف میاں کی کونسل سے نامزدگی واپس لینے کے بعد دو مزید ارکان نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے اقتصادی مشاورتی کونسل سے عاطف میاں کی نامزدگی واپس لینے کےبعد ڈاکٹر اعجاز خواجہ نے استعفیٰ دیا کہ جس کے بعد کمیٹی کے ایک اور رکن عمران رسول بھی مستعفی ہو گئے تھے۔ تاہم اب کونسل کے ایک اور رکن نے استعفیٰ دے دیا ہے اور استعفے کی وجہ ذاتی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔
The post وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے ایک اور رکن نے استعفیٰ دے دیا appeared first on Urdu News.