ن لیگ کا زوال دیکھ کر زرداری نے بھی منہ پھیرلیا، ایسا فیصلہ سنادیا کہ ن لیگیوں کے پیروں تلے زمین ہی نکل جائیگی

اسلام آباد (نیوزڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی چوہدری غلام حسین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے اندرونی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کھُل کر پاکستان تحریک انصاف اور ان کی حکومت کی حمایت تو نہ کرے لیکن مسلم لیگ ن کے ساتھ بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا راستہ جُدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف مسلم لیگ ن کے ساتھ اپنے راستے جُدا کرے گی اور انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرے گی۔ پیپلز پارٹی کسی بھی وقت یہ اعلان کر دے گی کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔پیپلزپارٹی پنجاب یا مرکز میں کہیں بھی مسلم لیگ ن کا ساتھ نہیں دیں گے اور نوے فیصد چانسز ہیں کہ پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ اپنی راہیں جُدا کر لے گی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ متحدہ اپوزیشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد پر دونوں سیاسی جماعتوں کے اندر بڑے گروپس نے اس اتحاد کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے اسپیکر اور وزیر اعظم کا الیکشن لڑنے کے اعلان کے پارٹیوں کے اندر اُمیدواروں کے ناموں پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔۔مسلم لیگ ن کے اندر ایک بڑے گروپ کا کہنا ہے اسپیکر کے انتخاب میں پاکستان پیپلزپارٹی ہم سے ووٹ لے کر وزیر اعظم کے انتخاب میں ہاتھ نہ کر جائے اور اگر ایسا ہوا تو ہماری سیاست یکسر ختم ہو جائے گی ۔ہم نے اپنی انتخابی مہم میں جس کے خلاف نعرے لگائے ، جسے چور کہا ، اب اس کے ساتھ بیٹھنے سے ہماری پوزیشن مزید خراب ہو جائے گی ۔ مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنماؤں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر ہم ایسا کر کے پاکستان تحریک انصاف کو مضبوطی بخشتے اور اپنی سیاسی موت کو دعوت دے رہے ہیں ،
تو کیا متحدہ اپوزیشن نوازشریف کے معاملے پر ہمارا ساتھ دے گی؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر یہ بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ کسی طریقہ سے پہلے ان سب سے اسپیکر کے لیے ووٹ لے لیں اور ساتھ میں ن لیگ کو وزیر اعظم کے لیے ووٹ دینے کی پیشکش کر کے ان کا اُمیدوار نامزد کروا کر اس کے بدلے میں اپوزیشن لیڈر اپنا بنانے کی کوشش کریں۔کیونکہ اگر متحدہ اپوزیشن کی حکومت بن گئی تو پھر وزارتیں بھی لیں گے اور اگر متحدہ اپوزیشن ناکام ہوئی تو پھر پہلے جو ہمیں اسپیکر کے زیادہ ووٹ ملے ہوں گے اسی بنا پر ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ اپوزیشن لیڈر ہمارا ہو۔کچھ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے باقاعدہ ایک سیاسی گیم کھیلی ہے تاکہ ایک تیرسے دو شکار کیے جا سکیں جس کے مطابق ایک اپوزیشن لیڈر کی سیٹ لینے اوردوسرا ن لیگ کو اسمبلی کے اندر نقصان پہنچایا جائے گا۔