بھارتی وزیر اعظم مودی کے خلاف تحریک عدم اعتماد آج پیش کی جائیگی جس کی ناکامی کا امکان زیادہ ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لوک سبھا میں پیش کی جائیگی جس کے لئے مخالف اراکین کو ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ہمار ا مقصد ہار جیت نہیں بلکہ اصل مقصد مود ی کو بے نقاب کرنا ہے ۔ چندربابونائیڈو کا کہنا تھا کہ مود ی کے خلاف تحریک عدم اعتماد سنہری موقع ہے ۔ 553 کے ایوان میں تحریک عدم اعتماد منظور کرنے کے لیے 268 ووٹ درکار ہیں جب کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو 312 کی عددی حیثیت حاصل ہے جس کی وجہ سے حکومتی کیمپ میں بظاہر کوئی پریشانی نظر نہیں آتی تاہم بے جے پی رہنماؤں نے اراکین کو ایوان میں رہنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا ہے کہ آج کا دن بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کا اہم ترین دن ہے ۔

Today is an important day in our Parliamentary democracy. I am sure my fellow MP colleagues will rise to the occasion and ensure a constructive, comprehensive & disruption free debate. We owe this to the people & the makers of our Constitution. India will be watching us closely.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 20, 2018

نریندر مودی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے حامی اراکین اسمبلی آج ایوان میں بحث کے دوران جامع، تعمیری اور خلل سے پاک بحث کریں گے، بھارتی عوام ہمیں بہت قریب سے دیکھیں گے ۔ ایوان زیریں کے آج ہونے والے اجلاس کے دوران کانگریس کی جانب تحریک عدم اعتماد کے تحت ریاست آندھرا پردیش کو خصوصی حیثیت نہ دینے، نچلی ذات کے لیے امتیازی قوانین ختم نہ کرنے، گائے کی ذبیحہ اور اقلیتوں کے قتل اور خواتین کے ساتھ بڑھتے زیادتی کے واقعات زیر بحث لائے جائیں گے ۔ جب کہ ایوان زیریں میں حکومتی اتحاد کے پاس تحریک کو ناکام بنانے کی اکثریت موجود ہے جس میں انتہا پسند ہندو تنظیم (بی جے پی) کے رہنما شیو سینا بھی شامل ہیں اور مودی سرکار کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ دوسری جانب آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ چندر بابو نائیڈو کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد ہار جیت نہیں بلکہ اصل مقصد نریندر مودی کو بےنقاب کرنا ہے ، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک تاریخی موقع ہے ۔