اسلام آباد(نیو زڈیسک) نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے جو کہ 24 دسمبر کو سنایا جائے گا۔اسی حوالے سے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف اپنے حق میں شوہد دینے میں ناکام رہے ہیں۔العزیزیہ فلیگ شپ کا فیصلہ ایون فیلڈ سے مختلف نہیں ہوگا۔آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال میں نواز شریف کو 14 سال قید اور جائیداد
بھی قبضے میں لے جا سکتی ہے۔فیصلہ نیب قوانین کے تحت ہی آئے گا۔واضح رہے گذشتہ روز احتساب عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف روسٹرم پر آگئے اور جج سے کہا کہ آج میں اس عدالت میں 71 ویں مرتبہ آیا ، کیا یہ میری آخری پیشی ہے؟ جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ جی ہاں ، آج آپ کی آخری پیشی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا ضمیر مطمئن ہے ، میں کبھی کرپشن کے قریب بھی نہیں گیا۔مجھ پر کرپشن کا کوئی جُرم ثابت نہیں ہوا اور مجھے اپنے ساتھ کیے جانے والے اس سلوک کی سمجھ نہیں آتی۔
میرے خلاف مفروضوں کی بنیاد پر کیس بنایا گیا۔ میرے خلاف جو بھی کارروائی ہوئی مفروضوں کی بنا پر ہوئی۔ آپ جج ہیں مجھے توقع ہے کہ آپ انصاف کریں گے۔ یاد رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل احتساب عدالت کے جج محمد ارشد نے سابق وزیراعظم نواز شریفکے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔احتساب عدالت میں آج ہونے والی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے عدالت سے مزید مہلت کی استدعا بھی کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔ ریفرنسز محفوظ کرنے کا فیصلہ العزیزیہ اور فلیگ شپ
انویسٹمنٹ ریفرنسز میں فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے احتسابعدالت کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنسز نمٹانے کے لیے 24 دسمبر تک کی مہلت دی گئی تھی۔احتساب عدالت سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا محفوظ کیا گیا فیصلہ 24 دسمبر کو سنائے گی۔واضح رہےکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر کیے گئے دونوں ریفرنسز پر 15 ماہ تک کارروائی ہوئی۔ دونوں ریفرنسز پر کُل 183 سماعتیں ہوئیں، العزیزیہ ریفرنس میں 22 جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہان پیش ہوئے۔
The post نواز شریف کو نیب ریفرنسز میں 14 سال قید ہو سکتی ہے appeared first on Urdu News.