’’ میں نے داعش کے اُس کارکن کے آگے ہاتھ جوڑے کہ مجھے خرید لے کیونکہ۔۔۔ ‘‘ داعش کی قید سے بھاگنے والی لڑکی کو نوبل امن انعام دے دیا گیا ، جنسی غلام بننے کے لئے آدمی کے سامنے گڑگڑاتی کیوں رہی؟ جان کر آنسو نہ رکیں

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) شدت پسند تنظیم کی قید میں جنسی غلام بن کر رہنے والی 25سالہ یزیدی لڑکی نادیہ مراد کو گزشتہ دنوں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔ اس نے داعش کی قید میں گزارے گئے دنوں کی ہولناک یادوں پر مبنی ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں اس نے ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے کہ سن کر ہی ہر کسی کی آنکھیں نم ہو جائیں۔
میل آن لائن کے مطابق نادیہ مراد لکھتی ہیں کہ ’’شدت پسندہمارے گاؤں پر حملہ کیا، مردوں کو ہمارے سامنے قتل کر دیا اور درجنوں خواتین اور لڑکیوں کو اغواء کرکے لے گئے اور ایک جگہ پر بند کر دیا۔ہم بالائی منزل پر تھیں اور نیچے شدت پسندوں کا شور سن رہی تھیں، جو ہماری خریدوفروخت کی تیاری کر رہے تھے۔
پھر ایک شدت پسند اوپر آیا اور ہم میں سے ایک لڑکی کو پسند کرکے اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب بھی کوئی شدت پسند آتا، خواتین خوف کے مارے سسک سسک کر رونے لگتیں اور ڈر کے باعث اکثر قے کرنا شروع کر دیتی تھیں۔‘‘ نادیہ مراد نے مزید لکھا کہ ’’وہ لوگ آتے اور ہمارے جسم پر کہیں بھی ہاتھ پھیرتے جیسے ہم کوئی جانور ہوں۔
پھر ایک شدت پسند آیا اور اس نے مجھے پسند کر لیا۔ وہ اس قدر قوی الجثہ اور ہیبت ناک تھا کہ اسے دیکھ کر ہی وحشت ہوتی تھی۔ وہ داعش کا ایک اعلیٰ عہدیدار سیلوان تھا۔ وہ اس قدر طاقتور تھا کہ مجھے خالی ہاتھوں سے ہی کچل سکتا تھا۔ اس سے قطع نظر کہ اس نے میرے ساتھ کیا کیا اور میں نے کتنی مزاحمت کی، میں کبھی اس شخص کا مقابلہ نہیں کر پاتی۔
اس سے سڑے ہوئے انڈوں کی سی بدبو آتی تھی۔ اس شخص کا مجھ پر ایسا خوف طاری ہوا کہ میں نے وہاں موجود ایک نسبتاً چھوٹے مرد کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے کہ وہ مجھے خرید لے تاکہ اس خوفناک شخص سے میری جان چھوٹ سکے۔ وہ شخص عراقی شہر موصل کی ایک عدالت میں جج تھا۔
وہ میری التجا پر مجھے خریدنے کے لیے راضی ہو گیا اور مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔‘‘ رپوٹ کے مطابق نادیہ مراد شمالی عراق کے علاقے سنجار کے گاؤں ’کوچو‘ (Kocho)کی رہائشی تھی، جس پر شدت پسندوں نے 2014ء میں حملہ کرکے گاؤں کے لگ بھگ تمام مردوں کو قتل کر دیا اور سبھی خواتین کو جنسی غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
نادیہ کے ساتھ اس کی بہنوں کو بھی غلام بنا لیا گیا تھا جبکہ اس کے بھائیوں اور ماں کو قتل کر دیا گیا تھا۔چند ماہ داعش کی قید میں رہنے کے بعد نادیہ کسی طرح ان کے چنگل سے بھاگ نکلی اور 2015پناہ گزین بن کر جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔
The post ’’ میں نے داعش کے اُس کارکن کے آگے ہاتھ جوڑے کہ مجھے خرید لے کیونکہ۔۔۔ ‘‘ داعش کی قید سے بھاگنے والی لڑکی کو نوبل امن انعام دے دیا گیا ، جنسی غلام بننے کے لئے آدمی کے سامنے گڑگڑاتی کیوں رہی؟ جان کر آنسو نہ رکیں appeared first on Urdu News.