بھارتی شہر ممبئی کی انٹرٹینمنٹ کمپنی KWAN کے شریک بانی انیربن بلاہ پر پے درپے چار خواتین نے جنسی زیادتی کا الزام عائد کر دیا جس پر اس نے خودکشی کی کوشش کی اور آخری خط میں ایسی باتیں لکھیں کہ سن کر ہر کسی کا دل بھر آئے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انیربن بلاہ پر چاروں لڑکیوں نے الزام عائد کیا تھا کہ اس نے نوکری کا جھانسہ دے کر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ ان الزامات کے سامنے آنے پر انیربن کو اس کی کمپنی سے بھی نکال دیا گیا اور وہ اداکارہ دیپکا پڈوکون کی فاﺅنڈیشن ’Live Love Laugh‘ میں بھی کام کرتا تھا ، وہاں سے بھی اس کی نوکری ختم ہو گئی ۔
اس پر دلبرداشتہ ہو کر انیربن نے خودکشی کی کوشش کی تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرکے اس کی جان بچا لی ۔ اس نے خودکشی سے قبل جو خط لکھا وہی اس کی جان بچانے کا ذریعہ بن گیا ۔ انیربن نے خط میں لکھا تھا کہ ” میں ایک اچھا انسان تھا لیکن میرے اندر ایک وحشی بھی چھپا ہوا تھا ، جس پر میں کوشش کے باوجود قابو نہ پا سکا اور درندہ بن گیا ۔ میں سیکس اور طاقت کو کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکا ۔ شاید میں بائی پولر کا مریض تھا ۔ اس سارے معاملے میں اگر کسی کو الزام دیا جا سکتا ہے تو وہ میں خود ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ مجھ پر کسی کو اعتبار نہیں ۔ جو کہانیاں آپ لوگوں نے سنیں ہیں وہ حقیقت سے متجاوز ہیں ۔
لیکن حقیقت میں میں نے جو کچھ بھی کیا ، اس نے مجھے میری ہی نظروں میں ایک درندہ بنا دیا ہے ۔ میں نے آپ لوگوں کو جو تکلیف دی اس پر میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر سکتا اور اس عمل کا کوئی جواز بھی پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ تمہیں میری لاش واشی کریک (نوی ممبئی کا علاقہ) میں کسی جگہ ملے گی ۔ شناخت کے لیے میرا لائسنس میرے پاس ہو گا ۔ میں نے نیلی جینز اور ٹی شرٹ پہن رکھی ہو گی ۔ میرے اندر جو وحشی ہے وہ جیت گیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ میں اس وحشی کو ایک ہی بار قتل کر دوں ۔“ رپورٹ کے مطابق اس خط میں درج معلومات کی بناء پر پولیس نے کارروائی کی اور اسے واشی کے علاقے سے ، اس سے قبل کہ وہ خود کشی کرتا ، پکڑ لیا ۔
The post ’’ میرے اندر ایک وحشی بھی چھپا ہوا تھا ، میں جانتا ہوں کہ مجھ پر کسی کو اعتبار نہیں اسلئے میں خودکشی کر . . . !‘‘ ، جنسی ہراسگی کا الزام لگنے پر خودکشی کرنے والے شخص کا آخری خط appeared first on Urdu News.