کرائسٹ چرچ(ویب ڈیسک)نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں دہشتگرد حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کا دکھ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا۔ حملے میں زندہ بچ جانے والوں کو اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا صدمہ اٹھانے کے ساتھ اس وقت کے خوف نے دہری ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا ہے۔صومالیہ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ یاسمین حملے کے وقت مسجد میں
اپنے قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ موجود تھیں۔اس حملے میں یاسمین نے دیگر رشتے داروں کے ساتھ اپنے ایک 66 سالہ عزیز، جنھیں وہ دادا کہتی تھیں کھو دیا۔صومالیہ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ یاسمین حملے کے وقت مسجد میں اپنے قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ موجود تھیں۔اس حملے میں یاسمین نے دیگر رشتے داروں کے ساتھ اپنے ایک 66 سالہ عزیز، جنھیں وہ دادا کہتی تھیں کھو دیا۔یاسمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھویا ہے وہ اس سفاکیت پر دہرے صدمے کا شکار ہیں
انہوں نے ایسی سفاکیت نیوزی لینڈ میں کبھی نہیں دیکھی۔انھوں نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم جن لوگوں کو 19 برسوں سے جانتے تھے ان میں سے کوئی اب نہیں بچا۔جو لوگ یہاں میری منگنی کے لیے جمع تھے،وہ مر چکے ہیں۔یاسمین کا کہنا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں ہم لوگ اقلیت میں ہیں۔ ہم لوگ تو بہت نرم دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔میری سمجھ سے باہر ہے کہ کوئی ہمیں اس طرح سے کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے نہیں معلوم کہ اب میں اسکارف سے اپنا سر ڈھانپ کر سفر کرتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کر سکوں گی یا نہیں۔ میں نے اس طرح اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
The post میری منگنی کیلئے جو لوگ جمع تھے۔ سب مارے گئے 25 سالہ یاسمین کوزندگی کاسب سے بڑاجھٹکالگ گیا appeared first on Urdu News.