اسلام آباد (اُردو نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ڈر ہے کہ نازی آریائی بالادستی کی طرح آر ایس ایس کا ہندو بالادستی کا نظریہ مقبوضہ کشمیر میں نہیں رکے گا۔ وزیراعظم نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو، کریک ڈاؤن اور کشمیریوں کی آنے والی نسلوں کی نسل کشی نازی نظریے سے متاثر آر ایس ایس کے نظریہ کو عیاں کرتی ہے۔
انکی کوشش ہے کہ نسلی کشی کے ذریعہ کشمیر کے آبادیاتی ںطام کو تبدیل کیا جائے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اسے بھی ایسے ہی دیکھے گی جیسے ہٹلر کو میونخ میں دیکھتی رہی؟ انہوں نے اپنے دوسرے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’مجھے ڈر ہے کہ نازی آریائی بالادستی کی طرح ہندو بالادستی کا آر ایس ایس کا یہ نظریہ مقبوضہ کشمیر میں نہیں رکے گا۔ اس کی بدولت یہ ہندوستان میں مسلمانوں پر دباؤ ڈالیں گے اور آخر کار پاکستان کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ ہٹلر کے نظریے جیسا وژن ہے‘‘۔
دوسری جانب پاکستانی فوج نے بھاری توپ خانے کے ساتھ ایل او سی کی جانب جانا شروع کر دیا ہے۔سینئیر صحافی حامد میر نے بتایا ہے کہ پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول پر مورچے سنبھالنے لگی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ’’آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے میرے بہت ہی متحرک دوستوں نے بتایا ہے کہ آج رات سے پاکستانی فوج نے بھاری توپ خانے کے ساتھ ایل او سی کی جانب جانا شروع کر دیا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر کی عوام پاکستانی جھنڈوں اور نعروں کے ساتھ فوج کا استقبال کر رہی ہے۔
The post مسلمانوں پر دباؤ اور پاکستان پر حملے کا خطرہ بھارت اب کیا کرنے والا ہے ؟ appeared first on Urdu News.