کرائسٹ چرچ(ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ مساجد میں دہشت گردی کا مرکزی ملزم برینٹن کوعدالت میں پیش کر دیا گیا، جس پر قتل کے الزمات عائد کر کے 5 اپریل تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلین شہری برینٹن ہیریسن کو ہفتے کی صبح کرائسٹ چرچ عدالت میں پیش کیا گیا۔ برینٹن پر صرف ایک شخص کے قتل کا
الزام ہے ۔عدالت میں پیشی کے موقع پر ضمانت کی کوئی درخواست جمع نہیں کروائی گئی۔ برینٹن کو 5 اپریل تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملزم کو عدالت میں قیدیوں کے سفید سوٹ میں پیش کیا گیا۔ برینٹن نے عدالت میں کسی سے کوئی گفتگو نہیں کی اور خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن دوران سماعت انتہا پسند سفید فام تنظیم کا نشان بناتا رہا۔ملزم کے عدالت سے جانے کے بعد جج نے کہا کہ ابھی تک ملزم پر صرف ایک قتل کا الزام ہے لیکن اُمید ہے مزید دفعات بھی عائد کی جائیں گی۔اس سے پہلے نیوزی لینڈ پولیس کمشنر مائیک بش نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرینٹن ایک قتل کی دفعہ عائد کی گئی ہے ان پر مزید دفعات عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نیوزی لینڈ کے شہریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے اور ہم تمام ذرائع استعمال میں لا رہے ہیں۔یاد رہے کہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشتگرد حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 49 افراد جاں بحق اور 20 کے قریب افراد زخمی ہوئے، واقعے کے وقت علاقے میں موجود بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محفوظ رہے۔دہشت گرد اپنے حملے کی تمام کارروائی
سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کرتا رہا۔جن مساجد پر حملے کیے گئے ان میں سے ایک وسطی کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد النور اور دوسری مسجد نواحی علاقے لِن ووڈ میں ہے۔ النور مسجد میں 41 اور لِن ووڈ مسجد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔مرکزی حملہ آور کی شناخت 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ کے نام سے ہوئی ہے اور وہ آسٹریلوی شہری ہے جس کی تصدیق آسٹریلوی حکومت نے کردی ہے۔
The post مساجد میں مسلمانوں کو شہید کرنے والا دہشت گرد عدالت میں پیش۔۔برینٹن عدالت میں پیشی کے دوران کیا کرتا رہا؟ جانیں appeared first on Urdu News.