ریاض(نیوز ڈیسک) خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے نیوزی لینڈ کی مساجد میں گزشتہ روز ہونے والی دہشت گردی کو گھناؤنا جُرم قرار دیتے ہوئے جہاں اس کی مذمت کی گئی ہے وہاں معصوم نمازیوں کی شہادتوں پرنیوزی لینڈ کی گورنر جنرل اور عوام سے بھی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے نیوزی لینڈ کی گورنر جنرل پیٹسی ریڈی کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گردانہ حملے کی اطلاع سُن کر بہت صدمہ پہنچا ہے۔ ہم اس گھناؤنے مجرمانہ حملے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ شاہ سلمان نے اپنے اس پیغام میں نیوزی لینڈ کی حکومت، شہید ہونے والے افراد کے لواحقین اور عوام سے سعودی حکومت اور عوام کی جانب سے دِلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا ۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس دُکھ کی گھڑی میں سعودی عرب اپنے دوست مُلک نیوزی لینڈ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو مملکت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع بھی ہیں، اُن کی جانب سے بھی نیوزی لینڈ کی گورنر جنرل کے نام ایک تعزیتی پیغام جاری کیا گیا جس میں دہشت گردانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر دُکھ اور اظہار کیا گیا ہے۔
دُوسری جانب سعودی عرب کے ممتاز علماء کی کونسل کی جانب سے بھی نیوزی لینڈ واقعے کو دہشت گردی اور نسل پرستانہ سوچ کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل ترک وزارت خارجہ نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے جس میں بڑی تعداد میں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے ہیں ترکی کو شدید دکھ پہنچا ہے، ترکی اس خونخوار دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے افرادکے لواحقین اور نیوزی لینڈ کی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ترکی کو اس بات کا پختہ یقین ہے کہ حکومتِ نیوزی لینڈ اسلامی فوبیا میں مبتلا افراد کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کی تحقیقات مؤثر طریقے سے جاری رکھے گی اور اس میں ملوث تمام افراد کو عدلیہ کے روبرو پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے پر ترک حکومت مطمئن ہے۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع 2 مساجد پر ہونے والے دہشت گردی کے سنگین ترین اور افسوسناک واقعہ میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 49 نمازی شہید جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہیں ،نیوزی لینڈ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ مسجد میں فائرنگ کا مرتکب دہشت گرد حملہ آور گرفتار کر لیا گیا ہے۔نمازیوں کو شہید کرنے والے دہشت گرد کی شناخت برنٹن ٹرنٹ کے نام سے ہوئی ہے جس نے دہشت گردی کے اس ہولناک واقعہ کو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر بھی کیا تاہم فیس بک انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔دہشت گرد کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہےلیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر اندھا دھند نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔نیوزی لینڈ سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے اس سنگین واقعہ کے بعد ایک خاتون سمیت 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے ۔
The post محمد بن سلمان کے صبر کا پیمانہ لبریز، سعودی ولی عہد نے انتہائی سخت رد عمل دے دیا، نیوزی لینڈ کی حکومت کے نام بڑا پروانہ جاری appeared first on Urdu News.