کرائسٹ چرچ(ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے میں 49 افراد کے قتل کے بعد ملک کے گن لا (اسلحہ قوانین) کو تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران جیسنڈا آرڈن نے کہا کہ 28 سالہ آسٹریلوی نژاد برینٹن ٹیرنٹ نے ’نومبر 2017 میں اسلحہ لائسنس حاصل
کیا، جس نے اسے اسلحہ خریدنے کی اجازت دی اور اسے 2 مساجد میں حملے میں استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ ہتھیاروں میں زیادہ خطرناک بنانے کے لیے اس میں تبدیلی کی گئی، لہٰذا نیم خودکار ہتھیاروں کی پابندی پر غور کیا جائے گا۔پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ’میں اس وقت آپ کو ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ ہمارے ہتھیاروں کے قانون تبدیل ہوں گے’۔اس موقع پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس بات کی تصدی کی کہ دہشت گرد حملہ آور اور اس کے گرفتار 2 ساتھی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انتہا پسندی کے ریڈار پر نہیں تھے۔جیسنڈا آرڈن کا کہنا تھا کہ مساجد پر حملے کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کی اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ادھر نیوزی لینڈ پولیس کمشنر مائیک بش کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو کسی خطرے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں لیکن مساجد پر حملے کے تناظر میں ہر کسی کو چوکنا رہنا چاہیے۔نیوز کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ دونوں حملوں کے لیے ایک ہی شخص ذمہ دار ہے تو انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی لیکن کہا کہ ’ہم ایسا کچھ نہیں جانتے جو آپ کی تجویز سے متصادم ہو‘۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آور کی جانب سے پہلے حملے کے بعد ملزم کو گرفتار کرنے میں 36 منٹ لگے، حملہ آور کی جانب سے سوشل میڈیا پر 74 صفحات کا منشور بھی پوسٹ کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا منشور میں اس نے خود کی شناخت بیرنٹن ٹیرنٹ کے نام سے کروائی، جو 28 سالہ آسٹریلین اور سفید فارم ہے اور وہ یورپ میں حملوں کا بدلہ لینے آیا تھا۔ادھر آسٹریلین پولیس کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ مساجد حملے میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔نیو ساؤتھ ویلز اسٹیٹ پولیس کے کمشیر مک فولر نے کہا کہ ان کے افسران نیوزی لینڈ پولیس کی مدد کے لیے تفتیش کر رہے ہیں اور برینٹن ٹیرنٹ، جہاں سے تعلق رکھتا تھا اس آسٹریلین ریاست میں رہائشیوں کا تحفظ یقینی بنارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ کے اہل خانہ شمالی نیو ساؤتھ ویلز کے ٹاؤن گریفٹن سے ہیں اور انہوں نے 49 افراد کے قتل کی میڈیا رپورٹس دیکھنے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا۔مک فولر نے کہا کہ برینٹن ٹیرنٹ نے گزشتہ 4 برسوں میں آسٹریلیا میں مختصر وقت گزارا۔قائم مقام ڈپٹی پولیس کمشنر مک ولنگ کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ صرف ’معمولی ٹریفک معاملات‘ کے لیے پولیس میں جانا
جاتا تھا۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا میں مزید خطرے سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں موجود 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں حملہ آوروں نے اس وقت داخل ہو کر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 49 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
The post محفوظ ترین ملک نیوزی لینڈ میں مساجد پرحملے کے بعدوزیراعظم نے تاریخی فیصلہ کرلیا appeared first on Urdu News.