اسلام آباد (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں 54 ارب روپےقرض معافی کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئے کہ پاکستان میں فوری طور پر دو ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں اہم میٹنگز کی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ قرض معافی کیس میں ریکور ہونے والے پیسوں سے ڈیم بنائیں گے۔بنکوں والے تو پیسے بھُول چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ چند کمپنیوں نےمعاف کروائی گئی 75 فیصد رقم کی واپسی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو رقم واپس نہیں کرنا چاہتے ان کے کیسز بینکنگ عدالت کو بھجوائیں گے۔ چیف جسٹس نے خوشخبری دی کہ فوری طور پر دو ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔جس پر عدالت میں موجود وکیل فاروق نائیک نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔یاد رہے کہ تین روز قبل سپریم کورٹ آف پاکستان میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ چیف جسٹس نے شمس الملک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عدالت کی رہنمائی کریں کہ آگے کیسے بڑھنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ ڈیم ہر صورت بننا ہے۔ کون سا ڈیم بننا ہے یہ آپ جیسے ماہرین ہی بتا سکتے ہیں، شمس الملک اور اعتزاز احسن کو معاونت کا کہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ڈیمز کے معاملے پر سب سے آگے ہو گی۔ ڈیمز میری زندگی میں بنیں یا بعد میں لیکن بنیں گے ضرور۔ شمس الملک نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں خشک سالی کی پیشن گوئی 10 سال قبل کی تھی۔۔سماعت کے دوران شمس الملک کا کہنا تھا کہ اگر قیادت تیار ہو تو بطور سپاہی کام کروں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ سوچ رہا ہوں کہ عدالتی کام روک کر کالا باغ ڈیم کے معاملے پر ایک سیمینار کروائیں اور ڈیم کی اہمیت پر روشنی ڈالیں، ملک کے قرضے خطرناک حس تک بڑھ گئے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ چاروں صوبے ڈیمز سے فائدہ اُٹھائیں۔انہوں نے ریمارکس دئے کہ بار بار کہہ رہا ہوں یہاں کالا باغ کی نہیں پاکستان ڈیم کی بات کررہا ہوں، پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو 5 سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی، چاروں بھائیوں کو ڈیمز کے لیے قربانیاں دینا ہوں گی۔۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد کا پانی پینے میں زہر سے کم نہیں ہے۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے پانی سے آرسینک نکلا۔میڈیا کو بھی پانی کے معاملے پر پروگرام کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں کہ یہ ڈیمز میری زندگی میں بنیں گے یا نہیں، لیکن ڈیم کی تعمیر میں سب سے پہلا حصہ عدالت عظمیٰ ڈالے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ ملک ریاض بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، ملک ریاض سے میں نے سب پیسہ لے لینا ہے، انہوں نے کہا کہ قوم کو بچا لیں یا اپنے مفاد کو بچا لیں،،چیف جسٹس نے کہا کہ میں ملک ریاض سے پیسہ لے کر ڈیمز کی تعمیر کے لیے دے دوں گا۔شمس الملک نے عدالت کو بتایا کہ ڈیم نہ بنا تو خیبرپختونخواہ کی بیشتر زمین کو پانی نہیں ملے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم صرف کالا باغ ڈیم کی ہی نہیں دیگر ڈیمز کی بھی بات کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمز پاکستان کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہیں، ڈیمز کے لیے چاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہئیے،کیونکہ اگر زمین ہی بنجر ہو گی تو کسان مقروض ہو جائے گا۔اس قوم کو شمس الملک آپ کی ضرورت ہے۔ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ لوگوں کو اکٹھا کریں تاکہ لوگوں کی تجاویز آئیں۔جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا،سب کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کے لیے سوچنا ہو گا۔ اعتزازاحسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز کے مخالفین کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا،،چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ پہلے ان ڈیمز پر فوکس کریں جو متنازعہ نہیں ہیں۔ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا۔سیاسی حکومتوں نے 10 سال ڈیمز کی تعمیر کے لیے کیا کیا ہے؟
ڈیمز تو ہر حال میں بنیں گے، یہ بتائیں کہ ڈیمز کن جگہوں پر بننے ہیں؟مجھے مسئلے کا حل بتائیں۔مجھے بندے بتائیں اور ماہرین کے نام بتائیں،ایک کمیٹی یا ٹین تشکیل دینی چاہئیے۔ جس پر انجینئیر امتیاز نے کہا کہ ہمیں ایک نہیں بلکہ درجنوں ڈیمز بنانے پڑیں گے۔بد عنوانی کے لیے تھرمل پاور اسٹیشن بنائے گئے، بد عنوانی کی وجہ سے ہی ڈیمز کی تعمیر نہیں ہوئی۔۔نواز شریف کی حکومت نے سو فیصد زائد قیمت پر تھرمل پاور اسٹیشن لگائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ مجھے نام بتائیں ، میں نے سب کو بُلا کر اندر سے کُنڈی لگا دینی ہے،کم ازکم اس مسئلے پر ہمیں گفت و شنید کا آغاز کرنا چاہئیے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی چیف جسٹس کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بات کر چکے ہیں، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کالا باغ ڈیم پر اس لیے کوئی حل نہیں نکالا جا سکا کیونکہ کوئی بھی اس ڈیم پر متفق نہیں تھا۔تاہم اب چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ چند دنوں میں اہم میٹنگز ہوئی ہیں جن میں فوری طور پرپاکستان میں دو ڈیمز بنانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور ڈیمز کے خشک ہونے کی وجہ سے عوام میں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس اور ڈیمز بنانے کے اعلان نے ہر پاکستانی کا دل جیت لیا ہے۔