اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ارکان قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے ، جس کے بعد پورے ملک میں عمران خان کی تعریفیں ہو رہی ہیں ، اور کہا جا رہا ہے کہ عمران خان غریبوں کا سہارا بن گئے ہیں ، وزیراعظم عمران خان نے ارکان قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز آئندہ ماہ کیا جائے گا اور کسی رکن قومی اسمبلی کو براہِ راست فنڈز جاری نہیں کیئے جائیں گے۔ تمام ترقیاتی کام سرکاری اداروں کے ذریعے کرائے جائیں گے، 100سے زائد ارکان اسمبلی نے اپنی ترقیاتی اسکیمیں جمع کرا دی جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کی سربراہی میں قائم 12 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی کو دیگر ارکان کی اسکمیوں کا انتظار ہے، دوسری جانب اپوزیشن بھی متحرک ہے۔ 24 ارب کے فنڈٖز ارکان کو دینے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا اور وزارت منصوبہ بندی سے فنڈز کی تفصیلات طلب کرنے اور فنڈز معطل کرنے کی استدعا کر دی، یاد رہے کہ اراکینِ پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر ذرایع نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اضافے کی سمری روکنے کی ہدایت کر دی ہے، تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم نے گورنر پنجاب کو سمری پر دستخط سے روک دیا ہے، وزیر اعظم نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو بل دوبارہ ایوان میں لانے کی ہدایت بھی کر دی ہے،ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو دی گئی لائف ٹائم مراعات کے فیصلے پر بھی نظرِ ثانی کی ہدایت کی گئی ہے، پنجاب اسمبلی کی جانب سے اراکین اسمبلی، وزراء خصوصاً وزیراعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا فیصلہ سخت مایوس کن ہے۔ پاکستان خوشحال ہوجائے تو شاید یہ قابلِ فہم ہو مگر ایسے میں جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی وسائل دستیاب نہیں، یہ فیصلہ بالکل بلاجواز ہے، وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو پوری زندگی کے لیے گھر دینے کا فیصلہ مناسب نہیں ہے، لائف ٹائم مراعات کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کرنے کی تجویز دی گئی، دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کا بل پی ٹی آئی کی سوچ کے بر عکس ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے، نعیم الحق نے کہا کہ وزیر اعظم نے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے کا سخت نوٹس لیا، میں نے وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ پنجاب سے بل واپس لینے کی بات کی ہے، ادھر حکومت پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے تنخواہیں بڑھنے کے بل پر میڈیا پر چلنے والی خبروں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بل نافذ نہیں ہوا ہے، گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد ہی بل نافذ العمل ہوگا، وزیر اعلیٰ کے پاس ایسی کوئی مراعات نہیں ہیں جس پر ایشو بنایا جائے، شہباز گل کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی اراکین کی تنخواہیں بڑھنے پر وزیر اعظم نے مایوسی کا اظہار کیا، بل میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے صرف مناسب سیکورٹی کا ذکر ہے، بل سے پہلے پنجاب اسمبلی ارکان کی تنخواہ 18 ہزار تھی اب 80 ہزار کر دی گئی، ترجمان نے کہا کہ خیبر پختون خوا ارکان اسمبلی کی تنخواہ 1 لاکھ 53 ہزار روپے ہے، تنخواہوں کے بل میں کچھ غلط ہوا تو ہم اسے ٹھیک کریں گے، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بھی ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، میری لیڈر شپ کا مائنڈ سیٹ پوچھیں تو اس بل کا دفاع کرنا آسان نہیں۔
The post غربت کے خاتمے کیلئے وزیراعظم عمران خان کا پہلا شاندارقدم، ایسا زبردست اعلان کردیا کہ پوری قوم خوشی سے جھوم اٹھی appeared first on Urdu News.