اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت کی نااہلی اور کوئی سمت نظر نہ آنے کے باعث ’عمران خان کو اقتدار میں لانے والی طاقتوں‘ کو اپنے فیصلے پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ پیپلز پارٹی کے میڈیا سینٹر میں ذرائع ابلاغ کے
نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی سمت نظر نہ آنے کے باعث ناصرف عوام بلکہ پاکستان تحریک انصاف کی اپنی ٹیم اور وہ لوگ ’جو عمران خان کو اقتدار میں لائے‘ کافی مایوسی اور تذبذب کا شکار ہیں۔انہوں نے جنوبی وزیرستان میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے بلاول بھٹو کو ’زرداری صاحبہ‘ کہہ کر بلایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خطاب کا معیار شیخ رشید کی سطح تک گر گیا ہے لیکن یہ غیراردای نہیں بلکہ اس کے بجائے دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست اور نان ایشوز پر بحث، ان کی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد اپنی خراب کارکردگی کو چھپانا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم ہمیشہ اسمبلی سے غیرحاضر رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی مسائل اور ملک کو درپیش دیگر مسائل کے بارے میں سوالات کا کوئی جواب نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات جاننا قوم کا حق ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔مصطفیٰ نواز
کھوکھر نے کہا کہ سابق دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا منصوبہ بدترین اور دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کی روح کے منافی ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نظام پر اعتماد میں کمی اور تذبذب بڑھتا جا رہا ہے اور کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں پر پی ٹی آئی کے اندر بھی لوگ کافی مایوس ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کابینہ غیرمنتخب افراد کا اجتماع ہے، پی ٹی آئی نے ان لوگوں کو ٹکٹ کیوں دیے جو نااہل اور کارکردگی دکھانے کے قابل نہ تھے؟ مجھے یقین ہے کہ عبدالحفیظ شیخ کی کابینہ میں شمولیت سے قبل وزیر اعظم عمران خان ان سے کبھی ملے بھی نہیں ہوں گے‘۔اس موقع پر انہوں نے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو ویر داخلہ کا عہدہ دینے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
The post عمران کوحکومت میں لانے والی قوتوں نے اپنے فیصلے پرغورشروع کردیا appeared first on Urdu News.