لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں موسم سرما کے باوجود روز بروز سیاسی ماحول میں گرما گرمی سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت کے لئے مشکل وقت آنے والا ہے، لیکن اگر معاشی فرنٹ پر حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک نئے بین الاقوامی ورلڈ آرڈر کے تحت پاکستان کے نامور کالم نگار سکندر حمید لودھی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں
۔۔۔۔۔حالات میں بہتری اور خاص کر معاشی شعبےمیں بہت سی ایسی اصلاحات کا آغاز ہونے والا ہے جیسے 1971ءکے بعد سابق وزیر اعظم زیڈ اے بھٹو کے دور میںمسلم دنیا کے قائدین پاکستان کی سپورٹ میں کافی آگے چلے گئے تھے۔جس کے بعد اسلامی اکنامک بلاک کے تصور کے تحت اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور پاکستان کو شاہ فیصل شہید سمیت تمام مسلم دنیا کے قائدین کی لاہور میں میزبانی کا شرف حاصل ہوا ۔ اس کے بعد امریکہ اور پاکستان مخالف قوتوں جس میں بھارت، روس اور اسرائیل بھی پیش پیش تھے ،
نے پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال مزید پھیلا دیا اور پھر زیڈ اے بھٹو کی پھانسی اور شاہ فیصل کی شہادت تک بات گئی۔ اب بہرحال وہ حالات نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے ہونے والے ہیں البتہ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ابتری کے باوجود سعودی عرب سے لیکر چین تک کی اسپورٹ اور سنگاپور، ملائیشیا اور دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کی نئی پیشکش سے امید کی جاسکتی ہے کہ رواں سال کی آخری سہ ماہی تک حالات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ اس لئے کہ بیرونی امداداور اسپورٹ میں اضافہ یقینی طور پر ایک اچھا شگون ہےلیکن
اس کے باوجود حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج داخلی یعنی مقامی معیشت کو مکمل طور پر بحال اور زراعت، ایس ایم ای اور انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیکٹر میں بزنس اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اس لئے تو عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کےلئے جو اقدامات نظر آنے چاہئیں تھے وہ نظرنہیں آرہے ۔ جس سے منفی عناصر طرح طرح کی مایوسی پھیلا رہے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید پاکستان میں حالات مزید ابتر ہوتے جائیں گے۔جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ۔
اصل مسئلہ وزیراعظم عمران خان اور PTIکی حکومت کے لئے اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیکر 80فیصد بلکہ 90فیصد عوام کے سب طبقوں کو مطمئن کرنا ہےجس کے لئے انہیں روزگار کی فراہمی سے لیکر مہنگائی میں کمی کے حوالے سے فوری اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ باقی 10فیصد یا 20فیصد طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے اسے کسی بھی قسم کے حالات میں معاشی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس لئے وزیر اعظم کو فوری طور پر کئی موثر اصلاحات کے ذریعے عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔اکثر اس سلسلہ میں
سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو پھر اپوزیشن کی اس بات پر لوگ یقین کرنے لگیں گے کہ یہ حکومت کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے اب بال حکومت اور وزیر اعظم کی کورٹ میں ہے کہ وہ عوام کو مطمئن کرنے کےلئے کیا کچھ کرتے ہیں ۔ عوام کے حوالے مثبت اقدامات سے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر جا سکتا ہے۔
The post عمران خان کے آتے ہی پوری دنیا کا ناک نقشہ بدل گیا ، نئے ورلڈ آرڈر کے قیام کی خبر آتے ہی پاکستان پر نظریں گاڑے عیسائیوں اور یہود وہنود پر لرزہ طاری ہو گیا appeared first on Urdu News.