عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف سازشیں بے نقاب۔۔خاتون اول کے پہلے انٹرویو نے بڑوں بڑوں کی نیندیں اڑا دیں

لاہور (نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اسلم خان روزنامہ نوائے وقت میںاپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ تین روز قبل ایک معروف میڈیا گروپ کو دیا جانیوالا خاتون اول بشریٰ بی بی کا انٹرویو پورے ملک میں زیر بحث ہے ، اس کے حوالے سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور کئی حوالوں سے اس پر تنقید بھی جاری ہے، خاتون اوّل بشری بی بی کا اولین انٹرویو چند بہت ہی ذاتی وضاحتوں کی وجہ سے بہت ہی چونکا دینے والا اور بہت اہم تھا جس نے جھوٹ کا پول کھول کر رکھ دیا۔
اس طرح کی دیدہ دانستہ دروغ گوئی کا دنیا میں ہی نہیں‘ اللہ تعالی کے دربار میں ضرور حساب دینا پڑے گا۔ کوئلے کی کان میں سب کا ہی منہ کالاہوتا آیا ہے۔ سیاست تو ہے ہی کوئلے کی کان، لیکن اس مقصد کیلئے اعلی ترین ہستیوں وہ بھی رسول اللہ کی پاک و مقدس ہستی کا حوالہ دینے والا اپنا ٹھکانہ بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ میرے لئے سب سے اہم بات یہی سوال ہے۔بشری بی بی کا انٹرویو سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا گیا۔ عمران خان اور اسکی ذات سے جْڑی ہر شئے ہی اہمیت پاتی ہے۔ بی بی صاحبہ جب سے عمران خان سے وابستہ ہوئی ہیں، شہرت ان پر نچھاور ہے اورانکے قدم چوم رہی ہے۔
پوری دنیا اْن کو جاننے لگی ہے۔ انٹرویو میں انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہاکہ ’’مجھے کبھی بھی نبی کریمؐ کی اس طرح زیارت نہیں ہوئی کہ انہوں نے مجھے حکم دیا ہو کہ تم خان صاحب سے شادی کرلو۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ جس نے یہ بات کہی، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اسکی زبان میں اتنی ہمت کیسے آ گئی ہے کہ وہ ایسا کہے۔ وہ رحمت اللعالمین ہیں۔انکی رحمت اور کرم نوازی سے گھر بنتے ہیں، اْجڑتے نہیں۔ انہوں نے خواب میں آکر بالکل نہیں کہا کہ خان صاحب سے شادی کرلو۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔‘‘بشری بی بی نے بتایا کہ ’’میں عدت پوری کرکے اپنے گھر سے نکلی تھی۔
چاہتی تو اگلے روز ہی شادی کر سکتی تھی۔ میں نے تو عدت پوری ہونے کے سات ماہ بعد شادی کی۔ میرے سابقہ شوہر دین پر چلنے والے ہیں۔ ہم نے قرآنی طریقہ اختیار کیا۔ بہت سے اینکرز ہیں جو بولتے ہوئے سوچتے نہیں کہ انکے الفاظ سے کسی کا دل دکھے گا۔ یہ زبان ہی ہے جو عرش معلی پہ لے جاتی ہے اور جو خاک میں ملاتی ہے۔ انسان یہ بھول جاتا ہے کہ زبان کہاں سے کہاں لے جاتی ہے‘‘۔اْنکی یہ گفتگو سننے کے بعد ایک ایک کرکے ماضی کے واقعات ذہن میں فلم کی طرح چلنے لگے۔ وہ خبریں، خبریں دینے والے، اخبارات، ٹویٹ، فیس بْک، پھر ان پر تجزئیے، تبصرے، توہین آمیز لطیفے، ٹھّٹھّے اورنجانے کیا کیا۔ سچی بات ہے کہ مجھے جھرجھری آئی اور توبہ استغفارکرتے ہوئے معافی کا خواستگار ہوا کہ معاملہ آقاکریمؐ کے حوالے کا ہے۔
’توکْجا مَن کْجا‘ والامعاملہ ہے۔بشری بی بی نے تازہ درفنطنی کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق ’’کچھ دن پہلے یہ ہوا کہ میں نے حضرت بی بی فاطمہ کو عرض کی تو فلاں کا کام ہوگیا۔یہ اتنا بڑا بہتان ہے کہ خود شیشے میں کھڑے ہوکر اپنے آپ سے سوال کر رہی تھی کہ میں بی بی فاطمہ سے بات کرسکتی ہوں؟؟یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ خبریں لوگ کیوں دے رہے ہیں۔ ‘‘میرا سوال ہے کہ جس صحافی اور میڈیا گروپ نے یہ خبر اْڑائی تھی، اب اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالی سے، نبی کریم سے معافی مانگے اور اس قوم سے بھی۔ اصولاً عمران خان اور بی بی صاحبہ سے بھی معافی مانگنی چاہیے۔ یہ معافی سرعام ہونی چاہئے۔ بہتان کی سزا ویسے تو بہت زیادہ ہے لیکن یہ محض بہتان نہیں، کذب بیانی ہے۔ اللہ، رسول اور مقدس ہستیوں کے بارے میں ہو تو اس کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔
اس معاملے کو یونہی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ محض سیاست اور کسی کو خوش کرنے کیلئے ایسا کیاگیا تو اس سے بڑھ کر گھاٹے اور خسارے کی اور کوئی بات نہیں۔ ’چہ ارزاں فروختند‘یہ تکلیف دہ احساس بھی ذہن کے دروازے پر ہتھوڑا بن کر گرتا رہا کہ کیا ہم کسی کی نفرت، عیب جوئی اور ہوس اقتدار میں اس حد تک گرچکے ہیں ؟ وہ کس قدر بے وقوف ہے جو یہ سمجھے کہ میں اللہ کریم کو دھوکہ دے سکتا ہوں (نعوذبااللہ) ایسا جھوٹ پھیلانے والے کو احساس بھی ہے کہ اس نے کیا کیا ہے؟ اگر یہ اجتماعی کام ہے تو اس ’’اجتماعی دانش‘‘ پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ایسے عناصر ’’دانش‘ کے معنی اور مفہوم سے شاید آگاہ نہیں اور انہیں چاہئے کہ کسی دانش کدے کا رْخ کریں۔
’’شیرو‘‘ کا چرچا بھی جھوٹ نکلا۔ اس بے زبان کا نام ’موٹو‘ ہے۔ جس کی وجہ سے عمران خان اپنے جلسوں میں موٹو گینگ کی اصطلاح استعمال کرتے رہے ہیں۔ حیران ہوں کہ جھوٹ کس درجہ کمال کو پہنچ رہا ہے اور کس بے شرمی اور ڈھٹائی سے قوم کو گمراہ کیاگیا۔ کیا ان واقعات کے بعد قوم کا بحیثیت مجموعی میڈیا پر اعتماد باقی رہے گا؟ پہلے ہی اس اعتماد کو شدید مجروح کیا جا چکا ہے جو قلم کاروں پر کبھی ہوا کرتا تھا۔ لفظ کی حرمت پہلے ہی زندہ درگور ہو چکی ہے۔ان تمام گھناؤنے کھیلوں میں ’پیٹرن‘ یا ترکیب و ترتیب یہ نظرآئی کہ بنیادی ہدف دراصل عمران خان تھا۔ چْن چْن کر ایسے تیر چلائے گئے جن کا مقصد اسکے کردار کو چھلنی کرکے رکھ دینا تھا۔ اس مجرمانہ حرکت کی سزا دنیا میں نہ بھی ملی تو آخرت میں بچنا ناممکن ہے۔ یہ ایمان ویقین ہے۔ اس امر کی تحقیق ہونی چاہئے کہ رسول کریمؐ کے خواب کی بات کس نے پھیلائی؟ کیوں پھیلائی؟ مضمرات وعوامل کی چھان پھٹک کرکے ذمہ داریا ذمہ داران کو کٹہرے میں لانا چاہئے۔
میرے نزدیک یہ توہین رسالت ہے۔ اس موضوع پر تمام خبریں، ٹویٹس اور بیانات جانچ پڑتال کے عمل سے گزاریں،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی خود بخود ہوجائے گا۔ خاتون اوّل کا لب و لہجہ، انداز وبیان اور آواز کے زیرو بم بہت کچھ بیان کرتے ہیں۔اٹھارہ سال کی عمر میں دین کی جانب رغبت اختیار کرنے والی بی بی صاحبہ کا لہجہ عام نہیں۔ ’’عبادت انسان کی اپنی ذات کیلئے ہوتی ہے۔ اللہ کا دوسرا نام عشق ہے جس میں عشق، جذبہ اور جنون نہیں وہ اسلام کا سپاہی نہیں۔ اللہ اور رسول اللہؐ کی جن پر نظر ہو وہ خاتون اول ہوتی ہے‘‘۔ یہ عام انداز نہیں۔
انہیں عمومی رویوں کا بھی خوب ادراک محسوس ہوتا ہے جو ان کے اس اظہار سے جھلکتا ہے کہ ’’ پہلے اللہ اور رسول ؐ کے قریب ہونے کیلئے لوگ میرے پاس آتے تھے اور اب عمران خان اور وزیراعظم کے قریب ہونے کیلئے آتے ہیں‘‘۔ وہ اپنی ذات کے حوالے سے کہتی ہیں کہ ’’مجھے اپنے رب سے کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ اس نے مجھے ہمیشہ مہارانی کی طرح رکھا ہے۔ عبادت بہت ضروری ہے اور انسانیت اس سے زیادہ ضروری ہے۔ یہ عمران خان سے سیکھا ہے۔انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دن عمران خان کو بہت تکلیف میں دیکھا۔ پوچھاتو بارش نہ ہونے پر تکلیف میں مبتلا تھے کہ پودوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہے۔ ہم کھڑے ہوکر بڑی دیر درود شریف پڑھتے رہے۔
مجھے اس سے پہلے پودوں کی زندگی کے بارے میں یہ احساس نہیں تھا۔ میں نے انسانیت کیلئے محبت و احساس عمران خان سے سیکھا‘‘۔بشری بی بی جب عمران خان کا تعارف کرا رہی تھیں تو ماضی میں جمائما اور ریحام کا بھی خیال آرہا تھا۔ یہ تیسرا فرد ہے جو عمران خان کا تعارف قوم کوکرا رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوا گویا عمران خان برانڈ ہے جس کی مارکیٹنگ ٹیم بدل گئی ہے۔ دیکھنے کے زاوئیے اور روئیے کس قدر مختلف ہیں عمران خان کو نیک روح قرار دیتے ہوئے بشری پیرنی نے سیاست، صحافت اور سماج پر سمجھداری سے اظہار خیال کیا۔
عمران خان کو دوسوٹ، سادہ زندگی اور ’فنا فی اللہ‘ اور ’فنا فی الرسول‘ کی جس حالت میں انہوں نے دیکھا ہے وہ اسکی گواہ ہیں اور اسکی جزا وسزا کی مستوجب ٹھہریں گی۔البتہ ان کا یہ پیغام صدقہ جاریہ بنے گا کہ ’درودشریف سے بڑی کوئی عبادت نہیں۔ یہ وہ قوت ہے کہ آپ سب کو جھکا سکتے ہیں اور کوئی آپکو جھکا نہیں سکتا۔ آپ ؐ ہی وجہ وجود کائنات ہیں‘۔ یہ بات انکی بہرحال درست ہے کہ ’’میری ذات، اٹھنے بیٹھنے پر تنقید بھلے کریں لیکن پردہ تو دین محمدؐ کا اہم حصہ ہے۔ اس پر تنقید تو دین محمدؐ پر تنقید ہے۔
ہمارے معاشرے میں جو جتنا کم لباس پہنے اسے ماڈرن اور جو پردہ کرے تو اسے جاہل سمجھا جاتا ہے‘‘۔سیاست کا بھی بشری بی بی کو خوب ادراک ہے جو ان کے اس جملے سے عیاں ہے کہ ’’اپوزیشن بہت مضبوط ہے۔ اتنے مشکل حالات میں عمران خان کی کامیابی اللہ کا معجزہ ہوگا۔ عمران خان میں لالچ، حرص و ہوس نہیں مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی عمران خان کو ہر مشکل حالات سے نکال کر کامیابی ضرور دیگا‘‘۔ عوام کو سمجھنا ہوگا کہ ’’عمران خان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ راتوں و رات تبدیلی آجائے۔ لیکن پاکستان دنیا میں مثالی ملک بنے گا‘‘۔ انہوں نے ’بددعا‘ کی ہے کہ ’’جس نے غریبوں کا پیسہ کھایا ہے۔
اللہ تعالی تو اسے مت چھوڑ‘‘ وہ عورتوں پر ظلم، یتیموں، بے سہاروں اور معذوروں کی بات کررہی ہیں۔ اسلامی ملک کو کیسا ہونا چاہئے، اظہارکر رہی ہیں یہ بھی بتارہی ہیں کہ ’’جہاں جہاں سے ہوکر آئی ہوں وہاں گھنٹوں میں تبدیلی آرہی ہے۔ اللہ تعالی میرے ذریعے، میرے ہاتھ سے یہ کرارہا ہے‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طورپر کیا محسوس کررہی ہیں اور کہاں ہیں۔ بی بی جی کی آخری بات ’’زبان کھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سونے کی ہے یا کوئلے کی‘‘۔ کاش یہ بات ہمیں سمجھ آجائے۔
The post عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف سازشیں بے نقاب۔۔خاتون اول کے پہلے انٹرویو نے بڑوں بڑوں کی نیندیں اڑا دیں appeared first on Urdu News.