عمران خان تو الیکشن کمیشن کی طرف سے نتائج روکنے پر پیشیاں بگھتیں گے، عمران خان اس ماہ حلف اٹھاتے نظر نہیں آ رہے،ان کی حکومت بننے کا بھی امکان نظر نہیں آ رہا،معروف صحافی رؤف کلاسرا کی الیکشن کمیشن کی کارگردگی پر سخت تنقید
معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ذمے 5سال بعد ایک الیکشن کروانا ہوتا ہے۔پورے پانچ سال میں ان کی ایک یہ ڈیوٹی ہے۔لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ایک دن کا کام بھی نہیں ہوا۔۔الیکشن کمیشن میں زیادہ تر ریٹائڑد جج ہیں۔کیونکہ وہ ایماندار سمجھے جاتے ہیں۔۔الیکشن کمشین کو کوئی ایسا بندہ چاہئیے جو اس تمام سسٹم کو مینج کر سکے۔
لیکن یہاں ججوں کی ایمانداری کی نہیں بلکہ سسٹم کی ایمانداری چاہئیے۔لیکن یہ لوگ الیکشن میں ڈیلیور نہیں کر سکے۔۔الیکشن کی رات کو بھی وہ جواب نہیں دے پا رہے تھے۔۔الیکشن کمیشن کے سیکرٹری بابر یعقوب نے معاملات کو کچھ ہینڈل کیا۔انہوں نے میڈیا پر آ کر اچھی گفتگو کی ۔لیکن اب جو نیا کلچر پیدا ہو گیا۔ اور انتخابی نتائج روکے جا رہے ہیں تو ایسے میں مجھے عمران خان اس مہینے حلف لیتے نظر نہیں آ رہے۔
کیونکہ عمران خان تو پیشیاں بگھتیں گے۔ایسا لگتا ہے کہ ان کی حکومت ہی نہیں بن رہی۔رؤف کلا سرا کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں کام کرنے والے ججوں کو پنشن بھی مل رہی ہو گی جو کہ سارے آٹھ لاکھ روپے ہے اور ان کو بطور چیف الیکشن کمیشن بھی ساڑھے آٹھ لاکھ روپے مل رہے ہوں گے۔16لاکھ روپے لینے والے شخص سے ایکا لیکشن ٹھیک سے نہیں کروایا جا سکا۔
جب کہ صحافی عامر متین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے موجودہ الیکشن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔یاد رہے گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے تھے۔،،عمران خان کے دو حلقوں سمیت27 امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیے گئے ، چیئرمینپی ٹی آئی کے تین حلقوں کا مشروط نوٹیفکیشن جاری جبکہ پرویز خٹک کی کامیابی کانوٹیفکیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کے فیصلے سے مشروط کردیا تھا۔