اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف میں دوسری جماعتوں سے اہم شخصیات کی شمولیت کو اگرچہ تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے تاہم الیکشن 2018کے قریب آتے ہی پارٹی کے معاملے میں کئی خامیاں اور روایتی سیاست کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ ایک طرف دیگر سیاسی پارٹیوں کے جتھوں کے جتھے پی ٹی آئی مزید پڑھیں: “میرا منہ کھل گیا تو کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گے” چودھری نثار آزاد ” ہوتے ہی کھل کر میدان میں آگئے، سنگین دھمکی دے ڈالی میں حالات سازگار دیکھ کر داخل ہوتے گئے تو دوسری جانب تبدیلی کے ویژن سے عوام کی توجہ حاصل کرنے والی اس جماعت میں ٹکٹ کےلئے بلیک میلنگ اور دوسرے ہتھکنڈوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ سینئر صحافی عارف نظامی نے اس حوالے سے اہم تجزیہ کیا ہے۔ عارف نظامی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف نے 45 فیصد ٹکٹ الیکٹ ایبلز کو دیے ہیں تو حیرانی کی بات نہیں ہے،
تحریک انصاف والے پچھلے ایک سال سے کوشش کر رہے تھے کہ وہ جیتنے والے امیدواروں کو سامنے لے کر آئیں،سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ ان کی لسٹ اتنی لمبی ہے کہ اگر میں یہاں پڑھوں تو پروگرام کا وقت ہی ختم ہو جائے، انہوں نے کہا کہ ان میں زیادہ تر لوگ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہیں، ان میں کچھ پیپلز پارٹی اور کچھ آزاد ارکان بھی ہیں، بعض معاملات میں انتہائی دیدہ دلیری دکھائی گئی جس طرح خسرو بختیار نے پہلے جنوبی صوبہ محاذ بنایا اور عمران خان نے اس پر وعدہ کیا کہ سو دن میں اس پر ہم کچھ نہ کچھ فیصلہ کر لیں گے، اس طرح خسرو بختیار نے ایک گروپ بنایا اور اسے تحریک انصاف میں ضم کر دیا، سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت نے تو بلیک میل کرکے ٹکٹ لیا، ایک طرف وہ پی ٹی آئی کو برا بھلا کہتے رہیں کہ اگر انہوں نے ٹکٹ نہ دیا تو میں یہ کر دوں گا وہ کردوں گا، تحریک انصاف میں جس طرح ٹکٹوں کی تقسیم ہوئی اور اس پر پارٹی کے اندر اور باہر جو احتجاج ہو رہا ہے اس سے ایک بات تو بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عمران خان یا ان کی پارٹی وزارتِ عظمیٰ کا تاج پہننے کے لیے اتنی بے تاب ہے کہ انہوں نے دوسری جماعتوں سے کوئی مختلف کام نہیں کیا۔