شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت ملتے ہی محکمے میں ہلچل آتے ہی ایس اعلان کر دیا کہ ہرپاکستانی جھوم اُٹھے گا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) : آج صبح ایوان صدر میں پاکستان کی نئی کابینہ نے حلف اُٹھا لیا۔ وزیراعظم عمران خان کی وفاقی کابینہ میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید وزیر ریلوے ہوں گے۔ شیخ رشید کے وزیر ریلوے بننے سے محکمہ ریلوے کے افسران کے مابین ایک بے چینی اور کھلبلی کی کیفیت ہے۔ شیخ رشید کے وفاقی وزیر برائے ریلوے بننے سے سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے منظور نظر افسران بھی پریشانی کا شکار ہیں۔
قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق خواجہ سعد رفیق کے منظور نظر افسران کو محکمے میں اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب شیخ رشید احمد کے قریب رہنے والے افسران نے اپنے بہتر مستقبل کی اُمید لگا لی ہے ۔ نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل وزیر ریلوے اپنا حلف لینے کے بعد آئندہ چند روز میں وزارت ریلوے اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کریں گے جس پر انہیں ریلوے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی جبکہ مختلف شعبوں کے سربراہوں کی تقرری کے بارے میں بھی وزیر ریلوے کی جانب سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔
نئی حکومت کی میرٹ پالیسی کے اعلان کے بعد یہ بات یقینی ہے کہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے قریبی ساتھیوں کو تبدیل کر دیا جائے گا جن میں ریلوے کے بعض اعلیٰ افسران کے علاوہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس بھی شامل ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ڈی ایس ریلوے ملتان امیر داؤد پوتا، ڈی ایس ریلوے راولپنڈی عبدالمالک اور ڈی ایس کراچی ارشد اسلام خٹک سابق وزیر ریلوے کے مشیر انجم پرویز کی سفارش پر لگائے گئے تھے اور چیف ایکٹریکل انجینئر ریلوے کی گریڈ 20 کی سیٹ پر ایک جونئیر خاتون آفیسر کو تین سال سے زائد عرصہ تک تعینات کئے رکھا اور سابق حکومت کے ختم ہونے سے ایک ماہ قبل مذکورہ خاتون ریلوے افسر کو تبدیل کر دیا گیا اور شعبہ الیکٹریکل کے سینئر افسر کو اس کے متعلقہ شعبے میں لگانے کی بجائے ڈی جی ویجی لینس سیل کی سیٹ دے دی گئی جبکہ سفارشی بنیادوں پر ریلوے میں تعینات رہنے والے سابق جنرل منیجر اور مشیر ریلوے انجم پرویز دو روز قبل کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد اپنے عہدے کا چارج چھوڑ کر چلے گئے جن کے جانے کے بعد ان کی سفارش پر مختلف سیٹوں پر تعینات منظور نظر افسران میں پریشانی کی لہر پیدا ہو گئی ، ڈی ایس ریلوے راولپنڈی عبدالمالک گزشتہ تین سال سے ڈی ایس ریلوے راولپنڈی کی سیٹ پر تعینات ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریلوے کے گریڈ 21، 22 اور گریڈ 20 کے بعض افسران اور ڈی ایس ریلوے مغل پورہ ورکشاپس سمیت بعض افسران کے تبادلوں کا بھی امکان ہے ۔ واضح رہے سابق دور حکومت میں ریلوے میں سول انجینئر، مکینیکل اور شعبہ ٹریفک کمرشل کے افسران کا راج رہا جس پر ریلوے کے بعض ا فسران کا کہنا ہے کہ اگر ریلوے میں ترقی اور تبدیلی لانی ہے تو ایک بار نئے وفاقی وزیر ریلوے کو وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق منظور نظر اور سفارشی افسران کے تبادلے کرنا ہوں گے ۔ افسران نے مطالبہ کیا کہ سیکرٹریٹ گروپ سے واپس ریلوے میں آ نے والے افسران کی خدمات حکومت کو واپس کی جائیں کیونکہ انہوں نے اپنی پروموشن سیکرٹریٹ گروپ سے حاصل کی تھی جس کے بعد وہ ریلوے کو چھوڑ گئے تھے ۔