شہباز شریف کے بعد اب کس کی باری ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک) سینئرصحافی و تجزیہ کارڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ نیب نے شہباز شریف کو حراست میں لیا کہ ان کیخلاف ثبوت موجود ہیں۔ شہباز شریف ن لیگ کے صدر اور اپوزیشن لیڈر ہیں۔ تاہم گرفتاری پر پنجاب میں صورتحال معمول کے مطابق رہی۔ نواز شریف اور مریم کے اڈیالہ جانے پر کچھ نہ ہوا تو شہباز شریف کی گرفتاری پر کیا ہو گا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا لیا گیا ہے وہاں ہنگامہ اور شوروغل ہوگا تو اجلاس ملتوی ہو جائے گا۔ اپوزیشن کبھی بھی استعفوں کی جانب نہیں جائے گی کیونکہ عمران خان فوری اجلاس بلائیں گے اور پارلیمنٹ تحلیل کر دینگے ان کیلئے یہ بڑا ایشو نہیں ہے پارلیمنٹ تحلیل ہوتی ہے تو نقصان صرف اپوزیشن جماعتوں کا ہو گا۔ شہباز شریف بھی پارلیمنٹ کے اجلاس میں لائے جائیں گے اور وہ بطور اپوزیشن لیڈر شریک ہونگے کیونکہ قانون اجازت دیتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں رانا ثناء اللہ کا نام سامنے آ رہا ہے۔ نارووال سپورٹس کمپلیکس میں بھی گرفتاری ہوئی ہے۔ احسن اقبال بھی قابو آ سکتے ہیں۔ پنجاب میں حالات خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ 14 دن میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے مزید بڑی گرفتاریاں ہونے جا رہی ہیں انقلاب کہیں کھو گیا ہے پریس کانفرنسز جاری رہیں گی مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس نے تصدیق کر دی ہے کہ کوئی تحریک نہیں چلنے والی سب سکون سے گھروں میں بیٹھ جائیں۔ ن لیگ کا انقلاب تو ویسے ہی دفن ہو چکا تھا اب مریم اورنگزیب نے اس پر چادر چڑھا دی ہے کہ سب سکون سے بیٹھ جائیں کوئی انتشار نہیں پھیلانا ہے۔
یہ تاثر بھی ہے کہ چونکہ مریم اورنگزیب مریم نواز کی گہری سہیلی ہیں اس لیے غالباً مریم نواز نے بیان دیا ہے تو سندھ میں انور مجید کا بیٹا طوطا ہے جو یہ بات بتا رہا ہے۔ زرداری کے گرد بھی گھیرا تیزی سے تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ سندھ میں سچل کمپنی سامنے آئی ہے جسے 100 ارب سے زائد کے ٹھیکے دیئے گئے۔ پی پی قیادت نااہلی کی جانب جارہی ہے۔ تحریک انصاف کے بھی بہت سے لوگ نااہل ہونگے۔ ملک کی ساری صورتحال میں اصل ایشو یہ ہے کہ کوئی این آر او نہیں ہونے جا رہا.
فواد حسن فواد پر کرپشن سے زیادہ سنگین الزام ہے کہ انہوں نے وفاق اور پنجاب کی بیوروکریسی کو لڑانے کی کوشش کی۔ ابھی تو بہت سے معاملات سامنے آئیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں جو نیا بلدیاتی نظام آ رہا ہے اس میں لوگ براہ راست ناظم کا انتخاب کرینگے۔ اس بات سے یہ اہم چیز سامنے آتی ہے کہ ناظم کا انتخاب براہ راست ہو سکتا ہے تو صدر یا وزیر اعظم کا انتخاب بھی تو براہ راست ہو سکتا ہے۔
پنجاب میں شہباز شریف کی گرفتاری پر کچھ نہیں ہوا تو سندھ میں زرداری گروپ کی گرفتاری پر کیا ہو گا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی قاتلانہ حملہ کے بعد جو پولیس افسران اور سیاسی شخصیات موقع سے غائب ہو گئے تھے انہیں اعلیٰ عہدے سے اور وزارتوں سے نوازا گیا اور جو محترمہ کے ساتھ رہے تھے سب کو ایک کونے میں ڈال دیا گیا تھا۔ محترمہ کی شہادت کے حوالے سے تیار تمام ملکی یا غیرملکی رپورٹس سامنے آنی چاہئیں۔
The post شہباز شریف کے بعد اب کس کی باری ہے؟ appeared first on Urdu News.