اسلام آباد(نیو زڈیسک) پی پی رہنما شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلوں کی برآمدگی کیس میں اہم انکشاف ہوا ہے کہ شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد کی گئی شراب کی بوتلیں در اصل بوٹ بیسن تھانے میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شراب برآمدگی کیس میں میڈیکل رپورٹس کو مشکوک قرار دینے کے باوجود تفتیشی پولیس نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطلوبہ شواہد جمع کرنے کی بجائے جیل پولیس پر کیس خراب کرنے کا ملبہ ڈال دیا۔جیل انتظامیہ نے ایف آئی آر سمیت مطلوبہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی معلوماتی رپورٹ تفتیشی ٹیم کو ارسال کر دی ہے۔
لیکن تفتیشی پولیس نے حکومت کی جانب سے میڈیکل بورڈ قائم کرنے اور بورڈ کی جانب سے ملنے والی ہدایت کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے انتظار کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔تفتیشی پولیس نے شراب کی بوتلوں کو بھی شرجیل میمن کے ملازمین اور جیل عملے کی جانب سے تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔اور دعویٰ کیا ہے کہ اصل بوتلیں پولیس کے پاس ہیں جو اسپتال کے ایک حصے سے برآمد کی گئی تھیں، اور اب وہ کیس پراپرٹی کے طور پر بوٹ بیسن تھانے میں محفوظ ہیں۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس نے اپنے اس دعوے کے باوجود ان بوتلوں کو نہ تو تفتیش کے دوران ظاہر کر سکی اور نہ ہی انہیں لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا ۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پولیس پہلے ہی دن سے شرجیل میمن کیس میں غلطیاں کر رہی ہے ، یہ پولیس کی غفلت ہے یا جانبداری اس حوالے سے کچھ واضح نہیں ہو سکا البتہ یہ معاملہ پولیس کو مہنگا پڑنے کا امکان ہے۔
پولیس نے پہلی غلطی یہ کی کہ شرجیل میمن کے کمرے پر چھاپے کے بعد بھی کمرے کو کرائم سین کے طور پر اپنے قبضے میں نہیں لیا، اس حد تک وہاں سے ملنے والی بوتلیں بجی خود سیل کرنے کے لیبارٹری بھیجنے کی بجائے یہ کام جیل پولیس کے حوالے کر دیا اوراب پولیس کا کہنا ہے کہ جیل پولیس کے اہلکاروں نے شواہد اور ثبوت ضائع کر دئے ہیں۔