یوں تو عیدالاضحیٰ کا تہوار اپنے ساتھ بہت سی نعمتیں، قربانی اور گوشت گھر لاتا ہے۔ لیکن اس تہوار پر گوشت سے تیار کردہ کھانوں کا استعمال عام دنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کیا جاتا ہے- یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب ہم ناشتے میں کلیجی٬ دوپہر کے کھانے میں مٹن بریانی اور رات میں نہاری یا چپلی کباب کھانا پسند کرتے ہیں-درحقیقت ہم ایک ہی دن میں

گوشت سے تیار کردہ کئی کھانوں کو اپنی غذا بنالیتے ہیں- اور گوشت کا یہ بےجا استعمال اکثر افراد کو اسپتال تک پہنچا دیتا ہے- اس میں کوئی شک نہیں قربانی کا گوشت اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ایک نعمت ہے جو کہ انسان میں موجود پروٹین کی کمی کو دور کرتا ہے اور ساتھ ہی خون کے سرخ خلیے تخلیق کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے-اور سرخ گوشت حاملہ خواتین اور ایسے افراد کے لیے انتہائی بہترین ہے جو خون کی کمی کا شکار ہوں ، اور ان میں آئرن کی کمی ہوتی ہے۔ بڑے گوشت میں وافر مقدار میں موجود آئرن سرخ خلیات کی پیداوار کے لیے بہت اہم ہے سرخ یا بڑا گوشت جسم کو وٹامن بی 12 بھی مہیا کرتا ہے-تاہم اس وقت آپ اس گوشت کے فوائد حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں جب آپ اسے کولڈ ڈرنک اور مرچ مصالحوں کے ساتھ استعمال کرتے ہیں-ذیابیطیس اور دل کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معالج سے مشورے کے بغیر ہرگز گوشت نہ کھائیں- گوشت کا اضافی استعمال کیلیشیم کی کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے- قربانی کا گوشت فریج میں محفوظ شدہ گوشت کے مقابلے میں زیادہ کیلیوریز کا حامل ہوتا ہے- اور اسی وجہ سے آپ کو بدہضمی اور بھاری پن کی شکایت

پیدا ہوتی ہے-عید الاضحیٰ پر غیر متوازن کھانے کی وجہ سے لوگ دوسرے دن ہی اسپتال میں پیٹ میں درد٬ بلند کولیسٹرول٬ بلڈ پریشر میں بےقاعدگی اور ان جیسی مزید کئی بیماریوں کی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں- یاد رکھیں کہ حد سے زیادہ کھانا ہی صحت کے مسائل کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے- امریکہ کے فلاحی ادارے امیریکن انسٹیٹیوٹ فارکینسر ریسرچ جو

کہ کینسر سر بچاؤ کے لیے مفید غذا اور جسمانی کثرت پر غور و فکر کرتا ہے ، ہدایت دیتا ہے کہ ایک ہفتے میں 18 اونز سے زیادہ سرخ یا بڑا گوشت استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔گوشت کے بکثرت استعمال سے بد ہضمی٬ ڈائریا٬ پیٹ درد٬ بخار جیسی شکایات تو فوری ظاہر ہو جاتی ہیں لیکن ہائی بلڈ پریشر٬ آرتھرائٹس٬ امراض قلب٬ کینسر جیسی امراض کافی عرصہ بعد وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ موٹاپے کا شکار بھی بن سکتے ہیں جبکہ انسولین بننے کی رفتار سست روی کا شکار بھی ہوسکتی ہے جو آپ کو ذیابیطیس کا مریض بنا سکتی ہے-احتیاطی تدابیر: گوشت کے پکوانوں میں مرچ مصالحوں کا استعمال کم رکھیں جبکہ ان پر سبز دھنیے کی گارنش ضرور کریں گوشت کے ہمراہ سلاد خصوصاً پودینہ ‘لیموں اور دہی کا رائتہ ضرور استعمال کریں۔ ایسی چٹنیاں جن میں زیرہ٬ پودینہ٬ اجوائن٬ شامل ہو، کا استعمال مفید ہے۔گوشت کھانے کے ساتھ ساتھ سبزیوں کا استعمال بھی جاری رکھیں، سبزیوں میں ٹماٹر، پھلیاں، سلاد (مولی گاجر چقندر مٹر)کا استعمال مفید ہے ۔ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ ابلا ہوا یا بھاپ میں تیار کیا ہوا گوشت بھنے ہوئے گوشت سے بہت بہتر ہے۔ عید قربان پر باربی کیو کھانے بہت شوق سے بنائے جاتے ہیں جبکہ باربی کیو کھانوں میں آدھا کچا آدھا پکا گوشت ہوتا ہے جو نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ بار بی کیو کھانوں میں کچے گوشت میں جانوروں کا خون رہ جاتا ہے اور خون میں مختلف جراثیم کی نشوونما ہوتی ہے- لہٰذا بار بی کیو کھانے بہت اچھی طرح پکا کر استعمال کرنا چاہیے-گوشت کے استعمال سے پیدا ہونے والی قبض کی شکایت سے اگر بچنا چاہتے ہیں تو رات میں ضرور اسپغول کی بھوسی استعمال کریں- اسپغول کی بھوسی کھانے میں موجود چربی اور کولسٹرول کی ایک مقدار جذب کر کے فضلے میں خارج کردیتی ہے۔ جس سے آپ دل کی بیماریوں سے بھی ایک حد تک محفوظ رہتے ہیں۔عید قرباں کا گوشت تین ہفتے سے زائد فریج میں نہ رکھا جائے ورنہ اس میں مختلف جراثیم کی نشوونما شروع ہوجاتی ہے جس سے معدے ، اور آنتوں کی بیماریاں لاحق ہونے کا اندیشہ ہوجاتا ہے اور گوشت کو فریج سے نکال کر فوراً پکایا بھی نہ جائے-