لاہور (انٹرنیشنل ڈیسک) نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کو ‘دہشت گردی’ نہ قرار دینے اور نہ ہی اس کی مذمت کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے لاجواب کردیا، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گزشتہ روز دہشت گرد حملے میں 50 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ حملہ کرنے والے آسٹریلین ایک دہشت گرد کو گرفتار بھی کر لیا گیا، اس حملے کی پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں نے مذمت کی لیکن امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تعزیت اور افسوس کے بجائے ایک لنک شیئر کیا جو حملے سے متعلق ایک ویب سائٹ کی خبر کا لنک تھا۔گارڈین کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ٹیلی فون کی اور پوچھا کہ امریکا آپ کی کیا مدد کرسکتا ہے؟اس پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نےانہیں مشورہ دیا کہ امریکا تمام مسلم کمیونٹی سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کرے، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے گفتگو اور واقعے کے دس گھنٹے بعد ٹرمپ نے دوسرا ٹوئٹ کیا اور قتل عام کی مذمت کی ، یاد رہے کہ گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ، یوزی لینڈ کی دو مساجد میں دہشتگرد حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 49 افراد جاں بحق اور 20 کے قریب افراد زخمی ہوئے، واقعے کے وقت علاقے میں موجود بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محفوظ رہے، اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد پر مسلح دہشتگردوں نے حملہ کیا، جمعے کا دن ہونے کی وجہ سے مساجد میں معمول سے زیادہ لوگ موجود تھے، جن مساجد پر حملے کیے گئے ان میں سے ایک وسطی کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد النور اور دوسری مسجد نواحی علاقے لِن ووڈ میں ہے۔
النور مسجد میں 41 اور لِن ووڈ مسجد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، مرکزی حملہ آور کی شناخت 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ کے نام سے ہوئی ہے اور وہ آسٹریلوی شہری ہے جس کی تصدیق آسٹریلوی حکومت نے کردی ہے، پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ مساجد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4 پاکستانی زخمی ہوئے ہیں جب کہ 5 تاحال لاپتہ ہیں،نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے مساجد پر حملے کو دہشتگردی اور نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے،وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے کہا آج کا دن نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، دوسری جانب کیوی پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کی مناسبت سے 4 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ، دو دیگر افراد اور ایک خاتون شامل تھے تاہم بعد ازاں ایک شخص کو رہا کردیا گیا، حراست میں لیے گئے ایک شخص پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے جسے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔اس شخص کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں، پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، واقعے کے بعد نیوزی لینڈ میں سوگ کا ماحول ہے اور قومی پرچم سرنگوں کردیا گیا ہے، کرائسٹ چرچ میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سے 2 بجے کے درمیان دونوں مساجد میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے اور ان میں سے ایک مسجد میں بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے پہنچے تھے تاہم واقعے کے وقت وہ مسجد کے اندر نہیں تھے۔
The post سانحہ کرائسٹ چرچ پربات نہ کرنے پر نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی طبیعت صاف کردی ، ایسا آئینہ دکھا دیا کہ سپر پاورامریکہ پوری دنیا میں منہ چھپانے لگا appeared first on Urdu News.