اسلام آباد (ویب ڈیسک) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے، کوئی بھی بات چیت اسی تناظر میں ہوتی ہے، بھارت پورے خطے کی تباہی کے راستہ پر ہے‘ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کی جانب سے پلوامہ حملوں سے متعلق ڈوزئیر موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈوزئیر کا مشاہدہ کیا جائے گا اور اس میں موجود قانونی شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، اگر ٹھوس اور قابل عمل ثبوت ہوئے تو پاکستان کارروائی کرے گا، وزیر اعظم عمران خان اس حوالے سے پہلے ہی واضح اعلان کرچکے ہیں.
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم اس میں دہشت گردی کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات ہونی چاہیے، بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے، ہم پر جب جنگ مسلط کی گئی تو ہم نے جواب دیا، ہم نے پہلے بھی بھارت سے کہا ہے کہ آپ نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطہ کے لیے بھی تباہی کے راستہ پر ہیں، موجودہ صورت حال پر اب بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اب بی جے پی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ 22 سیٹوں کے لیے خطے کو جنگ میں دھکیلا جارہا ہے.
ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ اگر ابھی نندن جیسا واقعہ بھارت میں ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی، بھارت نے اپنے گرفتار پائلٹ کا معاملہ پاکستان سے اٹھایا ہے، اس کے بارے میں پاکستان کی پوزیشن واضح ہے، ابھی نندن محفوظ اور صحت مند ہے، اسے عوام نے پکڑا تھا اور فورسز نے بچایا ہے، اسے جنگی قیدی کا درجہ دینا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بعد میں ہوگا، جبکہ پائلٹ پر کون سا عالمی قانون یا کنونشن لگنا ہے اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہوجائے گا.
او آئی سی میں بھارت کی شرکت سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج او آئی سی میں جائیں گی تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شریک نہیں ہوں گے، پاک بھارت کشیدگی پر دونوں ممالک عالمی برادی سے رابطے میں ہیں، اس موقع پر کس ملک کا کیا کردار ہو سکتا ہے وہ واضح نہیں، جن ممالک نے دہشت گردی کی بات کی ان پر پاکستان نے پوزیشن واضح کر دی ہے کہ ہم پہلے ہی نیشنل ایکشن پلان پر دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں.
بھارت کی پاکستان میں دراندازی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کے دعوے سے متعلق ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ اگر دہشت گردی کا کوئی وجود تھا تو بھی بھارت کو بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں، اگر اس کا کوئی قانونی جواز گھڑا جائے تو پھر پاکستان بھی کل کسی پر حملہ کرسکتا ہے، پاکستان اپنے دفاع کے لئے کسی کی طرف نہیں دیکھ رہا، صرف اپنے عوام اور افواج کی طرف دیکھ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان ساری صورتحال پر عالمی برادری کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، پاکستان کبھی بھی بھارت سے مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا، مقبوضہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے، کوئی بھی بات چیت اسی تناظر میں ہوتی ہے، پہلے بھی کہا آپ تباہی کے راستے پر ہیں، اپنے لیے بلکہ خطے کے لیے بھی.
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو بالا کوٹ لے کر جائیں گے، معصوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے اقوام متحدہ کو بھی آگاہ کریں گے ، مختلف رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ہم ہر جارحیت کا جواب دینے کو تیار ہے. ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان نے بھارت سے ہائی کمیشن کو سیکورٹی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے.
The post دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر بنیادی تنازعہ ہے ‘جو بھی بات چیت ہوگی کشمیر کے تناظر میں ہی ہوگی! پاکستان appeared first on Urdu News.