خان صاحب! اب تو آپ حکومت میں ہیں، اب تو یہ کام کر کے دکھا دیں۔۔چیف جسٹس نے وزیراعظم عمران خان کو چیلنج کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں خلاف ضابطہ تقرریوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نئی حکومت بن چکی ہے لہٰذابے ضابطہ تقرریوں کوٹھیک کرے۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں خلاف ضابطہ تقرریوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن نے درخواست دی تھی،تمام خلاف ضابطہ تقرریوں کودرست کیاجائے،نیابورڈآف گورنرلگایاجائے جوہسپتالوں کے معاملات درست کرے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبرپختونخوا ہسپتال مینجمنٹ بورڈز کی کارکردگی رپورٹ طلب کی تھی 16 اگست کی سماعت میں چیف جسٹس جبکہ عدالت نے ہسپتال مینجمنٹ بورڈز کی ناقص کارکردگی پر اظہار برہمی کیا ہے ۔
جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ایک بورڈ کا سربراہ عمران خان کا کزن نوشیروان برکی تھا۔ نوشیروان برکی سارا وقت امریکہ میں رہتا ہے۔ بورڈ ارکان صرف تین ماہ بعد اجلاس میں شرکت کے لئے آتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں صحت کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا۔ شوکت خانم ہسپتال کا سرکاری ہسپتالوں سے موازنہ کریں تو پتہ چل جائے گا۔ صحت اور تعلیم پر اخراجات کے اعداد وشمار اکٹھے کر رہے ہیں۔ ایبٹ آباد کی گائنی ڈاکٹر کثیر تنخواہ لینے کے باوجود اپنا کلینک چلاتی ہے۔ ہم صحت کے نظام کو چھوڑنے والے نہیں۔ راولپنڈی کا امراض قلب کا سرکاری ہسپتال بہت اچھا کام کر رہا ہے۔جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتا لوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے انتظامی بورڈ کے سربراہ فیصل سلطان عدالت میں پیش ہوئے۔
فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ہم بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے فیصل سلطان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صفائی کا انتظام تو آپ کر نہیں سکے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا تو ٹراما سینٹر بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ ایک بچے کے لئے لاڑکانہ کے چار ہسپتالوں میں ٹراما سینٹر کی سہولت نہیں تھی۔ خود اپنی آنکھوں سے ہسپتالوں کی ابتر حالت دیکھی۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں چائے کی کیتلی پڑی تھی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے سی ای او شوکت خانم ہسپتالکو ہدایت کی کہ جو لوگ آپ کی بات مانتے ہیں۔ ان کو تجاویز دیں۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کے پی حکومت کہتی ہے انہوں نے ہسپتالوں کے لیے بورڈز بنائے ہیں لیکنخیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کا برا حال تھا، چیف جسٹس اور دیگر ججوں نے خود ہسپتالوں کا دورہ کیا، لیڈی ریڈنگ کا ٹراما سینٹر بھی فعال نہیں تھا، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی سمیت کوئی مشین فعال نہیں تھی۔
چیف جسٹس نے متعلقہ حکام اور افسران سے استفسار کے دوران ریمارکس دیئے کہ صحت ہماری اولین ترجیح ہے، صحت مسیحائوں کا کام ہے، اس کے لیے جذبے کی ضرورت ہے یہاں تعلیم اور صحت کا بجٹ بھی پورا نہیں دیا جاتا، اپنی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں، پانچ سال حکومت رہی آپ کیا کرتے رہے، شوکت خانم اچھا چل سکتا ہے تو سرکاری ہسپتال کیوں نہیں۔ ایوب میڈیکل کے آپریشن تھیٹر میں چائے بن رہی تھی، آپ ہسپتالوں میں صفائی بھی نہیں کروا سکے۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کا سارا سسٹم عمران خان کے کزن چلا رہے تھے، نوشیروان برنی چند دن کے لیے امریکا سے پاکستان آتا ہے، وہی عدالتی احکامات پر عمل درآمد رکواتا رہا۔ سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں موجود سہولیات کی تفصیلات اور بورڈز کی کارکردگی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
The post خان صاحب! اب تو آپ حکومت میں ہیں، اب تو یہ کام کر کے دکھا دیں۔۔چیف جسٹس نے وزیراعظم عمران خان کو چیلنج کر دیا appeared first on Urdu News.