حکومت کا آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کا فیصلہ ، وزارت خزانہ نے اعلامیہ جاری کردیا

حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کا فیصلہ کئے جانے کے بعد وزارت خزانہ نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد اپنی شرائط لے کر پاکستان آئے گا اور ان پر پاکستان کی رضامندی کے بعد پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی ۔ پاکستان آئی ایم ایف کو 6 سے 7 ارب ڈالر قرضہ دینے کی درخواست کرے گا اور اس سارے عمل کیلئے چار سے چھ ہفتوں کا وقت درکار ہو گا جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کا دورانیہ تین سال ہو گا ۔ حکومت آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کے بعد بنیادی اصلاحات کرے گی جس کے بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ مالی صورتحال پر ماہرین معاشیات سے مشاورت کے بعد کیا گیا اور یہ پہلی بار نہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کا پروگرام لے رہی ہے بلکہ پاکستان 1990ء کے بعد 10 بار آئی ایم ایف پروگرام لے چکا ہے ۔ ہرحکومت نے گزشتہ حکومتوں کی پالیسیوں سے معیشت کے نقصانات کے باعث آئی ایم ایف سے رجوع کیا ۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ ہے جبکہ توانائی کے شعبے کے نقصانات ایک ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور ترامیمی فنانس ایکٹ بھی ان حالات کی وجہ سے لانا پڑا جبکہ سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ میکرو اکنامک استحکام کیلئے کیا ۔
وزارت خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کا پروگرام لے کر بنیادی اصلاحات کرے گی جس کے باعث دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ پاکستان آئی ایم ایف کو 6 سے 7 ارب ڈالرز قرضہ کی درخواست کرے گا اور آئی ایم ایف وفد اپنی شرائط لے کر کر پاکستان آئے گا جن پر پاکستانی کی رضامندی کے بعد پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی اور اس سارے عمل کیلئے چار سے چھ ہفتوں کا وقت درکار ہو گا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے گردشی قرضے کم کرنے ، نیٹ بڑھانے ، سرکاری اداروں میں نقصانات میں کمی لانے ، سرکاری اداروں میں خسارہ کم کرنے ، اخراجات میں کمی کرنے اور مصنوعات سازی بڑھا کر برآمدات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرے گا ۔
The post حکومت کا آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کا فیصلہ ، وزارت خزانہ نے اعلامیہ جاری کردیا appeared first on Urdu News.