’’ حلفاً کہتا ہوں شہبازشریف کے پاس تفتیش کیلئے گیا ، تو شہبازشریف نے آنکھیں دکھائیں ‘‘ ، تفتیشی افسر کا احتساب عدالت میں شکوہ

احتساب عدالت نے آشیانہ ہاﺅسنگ سکینڈل میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی اور24 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیدیا ، عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہبازشریف کے ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی ۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو آشیانہ ہاﺅسنگ سکینڈل میں احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ، احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن ریفرنس کی سماعت کی ۔ اس موقع ن لیگ کے رہنما حمزہ شہباز ، شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز اور دیگر بھی عدالت میں موجود تھے ۔
دوران سماعت نیب پراسیکیوٹرنے شہبازشریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کردی ، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمیں شہباز شریف اور فیملی سے متعلق مشکوک ٹرانزیکشن ملی ہیں ، ہمیں اس ٹرانزیکشن کی تفتیش کرنی ہے ، شہبازشریف نے سوال کیا کہ کیا اس میں میرا نام ہے ، وکیل نیب نے جواب دیا کہ جی آپ کا نام ہے ، پچھلے ریمانڈ میں اسمبلی اجلاس کی وجہ سے تفتیش نہیں ہو سکی ، شہبازشریف نے کہا کہ یہ مسلسل مجھ سے تفتیش کرتے رہے ہیں ، نیب وکیل نے کہا کہ احد چیمہ نے خود ایک فزیبیلٹی رپورٹ بنائی ہے ، عدالت نے کہا کہ آپ فیزبیلٹی رپورٹ سے آگے بھی آئیں ، شہبازشریف تفتیشی افسر کے بیان پر مسکراتے رہے ۔
دوران سماعت شہبازشریف نے کہا کہ باہر وکلا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں ، ایسے ماحول میں کیسے سماعت ہوگی ، جج نے کہا کہ کمرہ عدالت کے باہرجیسے شورشرابا ہے سماعت کچھ دیرہی چلے گی ، شہبازشریف نے کہا کہ جج صاحب یہ کارکن نہیں ، وکلا ہیں ، عدالت نے ایس پی کو روسٹرم پربلا لیا ، جج نجم الحسن نے استفسار کیا کہ کیا ہم اسی ماحول میں سماعت کریں گے؟ ایس پی نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی کے بھرپوراقدامات کئے ہیں ۔ دوران سماعت تفتیشی افسر نے کہا کہ حلفاً کہتا ہوں شہبازشریف کے پاس تفتیش کیلئے گیا ، تو شہبازشریف نے آنکھیں دکھائیں ، سابق وزیراعلیٰ نے کہا مجھ سے تفتیش کیوں کرنی ہے ؟ ۔
اس پر کمرہ عدالت میں تفتیشی افسراور شہبازشریف کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی ، شہبازشریف نے تفتیشی افسر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسی حرکت کبھی نہیں کی ، امجد پرویز نے شہبازشریف کو خاموش رہنے کا اشارہ دیدیا جس پر سابق وزیراعلیٰ خاموش ہوگئے ۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے آشیانہ سکینڈل کی انکوائری 19 جنوری کوشروع کی ، نیب نے ملزم کو 22 جنوری کو طلب کیا ، وکیل شہبازشریف نے کہا کہ نیب نے صاف پانی کمپنی کیس میں 5 اکتوبرکو بلایا ، آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار کیا گیا ، امجد پرویز ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ شہبازشریف پرکرپشن کا کوئی الزام نہیں ۔
آج نیب نے چوتھی بارجسمانی ریمانڈ کی درخواست دی ، وکیل صفائی نے کہا کہ جنوری سے شروع انکوائری میں ایک سال تک تفتیش مکمل نہیں کی گئی ، مزیدجسمانی ریمانڈ مانگنا مذاق ہے ۔ شہبازشریف کے وکیل نے نیب کی 15 روزہ جسمانی ریمانڈکی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے سیاسی بنیادوں پرکیس بنایا ، عدالت نیب کی 15 روزہ استدعا کو مسترد کرے ۔ عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ سناتے ہوئے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی اور24 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیدیا ، عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف کے ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی ۔
The post ’’ حلفاً کہتا ہوں شہبازشریف کے پاس تفتیش کیلئے گیا ، تو شہبازشریف نے آنکھیں دکھائیں ‘‘ ، تفتیشی افسر کا احتساب عدالت میں شکوہ appeared first on Urdu News.