اسلام آباد : پانامہ کیس کے بعد سے ہی مسلم لیگ ن اور شریف خاندان کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی، وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ اور پارٹی صدارت سے ہٹایا جانا مسلم لیگ ن کے سیاہ دور کا آغاز تھا، لیکن پارٹی صدارت شہباز شریف کو سونپ کر پارٹی کی بچی کھُچی ساکھ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ایسے میں نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیوں میں کچھ فرق بھی دیکھنے میں آیا البتہ شہباز شریف نے کبھی بھی کھُل کر اپنے بڑے بھائی اور پارٹی قائد نواز شریف کی مخالفت نہیں کی۔ معروف کالم نگار اور تجزیہ کار حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا کہ بارش سے ایک دن قبل مجھے لاہور میں شہباز شریف کے ساتھ ناشتے کی میز پر تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔
وہ بڑے مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ ن آسانی کے ساتھ کم از کم سو نشستیں قومی اسمبلی میں حاصل کرلے گی اور اتحادیوں کے ساتھ مل کرحکومت بھی بنالے گی لیکن اگر مسلم لیگ ن کو زور زبردستی سے روکنے کی کوشش کی گئی تو ایک بحران پیدا ہوجائےگا۔ شہباز شریف نے محتاط لہجے میں کہا کہ اگر میں اپنے بھائی کے خلاف بغاوت کردیتا اور داراشکوہ بن جاتا تو مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو انکوائریاں نہ بھگتنی پڑتیں لیکن میں نے نواز شریف کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے سے انکار کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔اس گفتگو کے دوران شہباز شریف نے پوری تفصیل سے بتایا کہ ان کی درخواست پر نواز شریف نے چودھری نثار علی خان کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کردی تھی جس دن اس فیصلے کااعلان ہونا تھا اس سے ایک رات قبل چودھری نثار علی خان کے حوالے سے بعض ٹی وی چینلز پر ایک بیان نشر ہوا جس میں نواز شریف پر تنقید کی گئی تھی۔
اگلے روز نواز شریف نے اخبار شہباز شریف کے سامنے رکھ دیا جس میں چودھری نثار کا بیان موجود تھا۔ دوسری طرف چودھری صاحب کہہ رہے تھے کہ انہوں نے یہ بیان جاری نہیں کیا اور اس کی تردید کردی تھی۔ اس سلسلے میں ایک ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز سے تصدیق بھی کی گئی کہ چودھری نثار نے تردید کی تھی یا نہیں لیکن غلط فہمی دور نہ ہوئی اور ٹکٹ جاری نہ ہوسکا۔ شہباز شریف نے اپنے بعض ساتھیوں کی طرف سے پارٹی ٹکٹ واپس کرکے ’’جیپ‘‘ پر سوار ہونے کے واقعات پر زیادہ بات نہیں کی۔ وہ اقتدار کے حصول سے زیادہ تاریخ میں اپنے مقام کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نظر آئے اورمجھے محسوس ہوا کہ انہیں زیادہ دبایا گیا تو پھر وہ بھی آستینیں چڑھا لیں گے اور جیل جانے سے بھی نہ گھبرائیں گے۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے خلاف فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مسلم لیگ ن کمزور نہیں مضبوط ہوگی لیکن اس ملاقات کے اگلے ہی روز جو بارش ہوئی اسے دیکھ کر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ مسلم لیگ ن کے لئے اصل خطرہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ نہیں بلکہ وہ بدانتظامی ہے جو بارش کے بعد سامنے آئی۔عمران خان نے اس بدانتظامی پر بھرپور تنقید کی ہے۔ اپنے کالم میں ان کا کہنا تھا کہ بزرگوں نے سچ کہا ہے کہ بڑا بول بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے۔ شہباز شریف سے اس معاملے میں کچھ بےاحتیاطی ہوگئی۔ انہوں نے کراچی میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے لاہور کو پیرس بنادیا وہ کراچی کو بھی پیرس بنا دیں گے۔
ان کے اس دعوے کی گونج ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ ایک طوفانی بارش نے لاہور کو ایسا تالاب بنا ڈالا جس میں کشتیاں تیر رہی تھیں۔شہباز شریف نے بارش کے بعد سامنے آنے والی بدانتظامی کی ذمہ داری نگران حکومت پر ڈال دی حالانکہ شہر کا بلدیاتی نظام بدستور مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے۔ بارش کے پانی کو دریائے راوی کے سپرد کرنا کوئی مشکل نہ تھا لیکن شہباز شریف پچھلے دس سال میں نکاسی آب کا کوئی موثر نظام نہ بنا سکے اور ایک بارش نے ان کے اس بیانیے کو توڑ پھوڑ دیا۔