اسلام آباد (ویب ڈیسک) سوئٹزرلینڈ کابینہ نے پاکستان کےساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے معاہدے کے تحت نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت معاہدے میں آرٹیکل 25 کو شامل کیا گیا ہے، اس کا اطلاق 29نومبر 2018 کے بعد معلومات پر ہوگا جس کے تحت سوئٹزرلینڈ بینک، مالیات اور
جائیدادکی معلومات دے گا۔ سوئٹزرلینڈ کابینہ نے پاکستان کےساتھ معاہدے کی توثیق کر دی۔دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے سوئس حکام کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں پاکستانیوں کے اثاثوں اور بنک اکائونٹس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں.انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت لوٹی ہوئی ملکی دولت وطن واپس لانے کے لیے یہ قدم اٹھا رہی ہے، پاکستان اور سوئس حکومتوں نے دوطرفہ بنیاد پر مالیاتی معلومات کے قابل تجدید تبادلہ پر دستخط کیے ہیں جس سے پاکستانی حکام کو پاکستانیوں کے سوئس بنک اکائونٹس کی تفصیلات حاصل کرنے میں مدد ملے گی. یہ بات انہوں نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکائونٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہی. اکستانیوں نے متحدہ عرب امارات میں 5000 ارب روپے مالیت سے زائد کی جائیدادیں اور سوئٹزر لینڈ، برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں غیر قانونی دولت چھپانے کیلئے قائم ٹیکس سیف ہیونز میں پاکستانیوں کے 350 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بینک اکائونٹس میں سے ممکنہ طور پر پیسہ واپس لانے
کیلئے دو مختلف آپشنز اختیار کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے۔ سوئس بینکوں میں 200 ارب ڈالر، برطانیہ میں 100 ارب ڈالر اور دنیا کے دیگر ممالک میں 50 ارب ڈالر کے بینک کھاتے موجود ہیں۔ منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ سفارشات سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں غیر ملکی اکائونٹس اور غیر ملکی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور ان کی واپسی کیلئے مختلف سفارشات تیار کرنے والی کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں دی گئی ہیں جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی شخصیات کی جانب سے بیرون منتقل کردہ کئی سو ارب ڈالر کی واپسی کیلئے انٹرنیشنل کریمنل لا، اقوام متحدہ کے قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کو استعمال میں لانے اور پاکستان کی بیورو کریسی، بزنس مینوں اور عام شہریوں کی جانب سے بیرون ملک منتقل کردہ اربوں ڈالر کی واپسی کیلئے پہلے معاہدوں کے تحت معلومات کے حصول اور بعد میں ان ممالک کی عدالتوں میں کیس دائر کر کے سرمایہ کی واپسی کیلئے دوطرفہ معاہدوں کا سہارا لیا جائے۔
تاہم پاک سوئس معلومات کے تبادلے کے معاہدے میں ایک شق 25 کی تشر یح مانگی گئی ہے جس کے سبب پاکستان کو سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے تین سال سے زائد پرانے اکائونٹس کی معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔ پاکستان اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان سوئس بینکوں میں موجود پاکستانیوں کے بینک کھاتوں میں موجود دو سو ارب ڈالر سے زائد کی معلومات کا حصول ایک معمہ بن گیا ہے۔ پاکستان اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان جس نئے معاہدے پر 2017 میں سوئس فیڈرل کونسل اور ایف بی آر نے دستخط کئے ہیں اس کے تحت پاکستان میں اگر کسی سیاسی شخصیت یا بزنس مین کے خلاف ٹیکس چوری یا ٹیکس کی ادائیگی سے جان بوجھ کر پہلوتہی اور قابل ٹیکس آمدن چھپانے کی ضمن میں گزشتہ تین سال سے کارروائی جاری ہے تو ایسے کیسوں کی بنیاد پر پاکستانی باشندوں کے سوئس بینکوں میں موجود بینک اکائونٹس کی معلومات کے حصول کیلئے سوئس عدالت کے ذریعے سوئس بینکوں سے معلومات کے حصول کیلئے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
The post جو کام کوئی نہ کر سکا وہ کپتان نے کر دکھایا۔۔۔۔ سوئس بنکوں سے پیسہ لانے کیلئے ایسا مثالی کام کر دیا کہ پورے ملک میں دھوم مچ گئی appeared first on Urdu News.