جمشید ٹاون میں غیر قانونی تعمیرات کرنے والے طاقتور افسران, تفصیلات منظر عام پر آگئیں

اینٹی کرپشن ، نیب ، ایف آئی اے ، ایف بی آر بے بس

کراچی میں غیر قانونی طریقے سے عمارتیں تعمیر کرکے کھربوں روپے کمانے والوں کو نیب اور محکمہ اینٹی کرپشن کی کھلیچھوٹ، ایف آئی اے اور ایف بی آر کے افسران نے بھی کالے دھن سے متعلق تحقیقات کا سلسلہ بند کردیا ،جس کا براہ راست فائدہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والی مافیا اور ایس بی سی اے افسران کو پہنچ رہا ہے،ناجائز طریقے سے بنائی جانے والی عمارتوں سے ماہانا کھربوں روپے کمانے والی مافیا سے سرکاری افسرا ن اربوں روپے کمالیتے ہیں مگر اس کمائی کا آٓج تک پتا نہیں لگایا جاسکا یہ کہاں اور کیسے استعمال کی جا رہی ہے ،ویسے تو کراچی میں ناجائز عمارتوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں جمشیدٹاون کی حدود میں آنے والے عمارتیں بھی شامل ہیں،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اس ٹاو ن کا ڈائریکٹر صفدر مگسی کو مقرر رکھا ہے جو کہ گہرے سیاسی اثرورسوخ کی بناءمحکمہ جاتی قوانین کو کسی خاطر میں نہیں لاتے،انہی کے ماتحت افسران میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیع شیخ ،انسپکٹر لئیق بھی شامل ہیں،جو جمشید ٹاو ن کی حدود میں منطور کالونی،اعظم بستی، محمودہ آباد،لائینز ایریا،پی ای سی ایچ ایس ودیگر علاقوں میں ناجائز تعمیرات کروانے میں ملوث بتائے جاتے ہیں عرصہ دراز سے ایس بی سی اے میں تعینات یہ افسران اس وقت اربوں روپے کے اثاثے بنا چکے ہیں لیکن ان کی جانب سے اینٹی کرپشن ، صوبائی احتساب بیورو اورایف بی آر سمیت ایف آئی اے نے چشم پوشی اختیار کررکھی ہے،ذرائع نے بتایا کہ اس وقت جمشید ٹاو ¿ن میں میں ناجائز تعمیرات کے لیے مخلف ریٹ مقرر ہیں جو کم از کم 15لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں،تیکنیکی مہارت کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات کرانے والے افسران کے ریکارڈ اور جمشید ٹاو ن کی حدود میں تعمیر ہونے والی عمارتوں سے متعلق تحقیقات کا آغا ز کیا جائے تو حقائق کا پتالگ سکے گا۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیع شیخ
اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیع شیخ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.