لاہور(ویب ڈیسک) شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں وقاریونس کو اوسط درجے کا کپتان اور خوفناک کوچ قراردیدیا۔قومی ٹیم کے سابق کپتان کی آپ بیتی گیم چینجر کل منظرِ عام پر آئے گی، بوم بوم شاہد آفریدی نے سنسنی خیزانکشافات کئے ہیں۔ سابق کپتان کی آپ بیتی گیم چینجرکی تقریب رونمائی کراچی کے ایک شاپنگ مال میں ہوگی۔ کتاب میں بوم بوم آفریدی
نے اپنے سابق سینئراورکوچ وقاریونس کو اوسط درجے کا کپتان اورخوفناک کوچ قراردیتے ہوئے کہا کہ وقار یونس جب سے پاکستان ٹیم کے کوچ بنے تو اْن کی وسیم اکرم سے کشمکش رہی، وقار یونس نے ہرکام میں مداخلت کی، اسی لیے وسیم اور وقار یونس کے درمیان اختلافات رہے۔ اپنے دور کے عظیم بیٹسمین جاوید میانداد انہیں بالکل پسند نہیں کرتے تھے اور بحیثیت ہیڈ کوچ انہیں وقت نہیں دیتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی بوم بوم نے تعریفی انداز میں یہ بھی لکھا ہے کہ جاوید میاں داد صرف ایک نام نہیں ایک دور تھا جو ہمیشہ پاکستان ٹیم کی امیدوں کا مرکز رہا۔دوسری جانب شاہد آفریدی اپنی کتاب کی رونمائی سے قبل ہی اس کے چرچوں پر کھل اٹھے، فوری ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹ بھی کر ڈالا تاہم انہوں نے کتاب میں کی جانے والی تنقید کومیڈیا کی جانب سے بڑھاوا قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ میں نے تنقید کے ساتھ سٹار کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے تعریفی کلمات بھی ادا کیے ہیں۔شعیب ملک سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ کپتانی کے لیے فٹ نہیں تھے لیکن ا سکے باوجود ان کو کپتانی دی گئی۔شعیب ملک کانوں کے کچے تھے اور برے لوگوں سے مشورے لیتے تھے۔سلمان بٹ کو
نائب کپتان بنانا بھی غلط تھا۔اعجاز بٹ وقار یونس کی باتوں میں آ گئے تھے۔ لارڈرد ٹیسٹ کے دروان کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔چھوتھے دن سلمان بٹ سے کہا کہ وہ قیادت سنبھال سکتاہے۔جاوید میانداد کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میانداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگروہ چھوٹے آدمی ہیں، جاوید میانداد کو میرے بیٹنگ سٹائل سے نفرت تھی، کراچی سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی میانداد نے میرے خلاف ایک محاذ قائم کر لیا تھا جب کہ پریزینٹیشن تقریب میں جاوید میانداد نے مجھ سے زبردستی تعریف کرائی۔ سپاَٹ فکسنگ سکینڈل کا بہت پہلے علم ہوگیا تھا، مظہر مجید نے فون مرمت کیلئے لندن میں ایک دکان پر دیا تھا، دکان کا مالک میرے دوست کا دوست نکلا، مظہر مجید کے فون سے پاکستانی کھلاڑیوں کوکیے گئے پیغامات ملے، ٹیم مینجمنٹ کوثبوت دکھائے مگر کوئی ایکشن نہ ہوا، میں نے یہ پیغامات وقار یونس اور یاورسعید سے شیئر کیے، یاور سعید نے یہ پیغامات دیکھ کر بے بسی کا اظہار کیا، یاور سعید نے مجھ سے پیغامات کی کاپی مانگنے کی زحمت بھی نہ کی، مینجمنٹ خوفزدہ تھی کہ اسے ملک کے وقار کا خیال نہ تھا۔ عبدالرزاق نے بھی سلمان، عامر
اور آصف پر شک کا اظہار کیا تھا۔ سلمان بٹ کو مستقبل میں قومی ٹیم میں جگہ نہیں ملنی چاہیے۔سابق کپتان جاوید میاںدادنے الزامات کے جوابات میں کہا کہ کتابوں میں ہمیشہ مصالحہ شامل کیا جاتا ہے۔شاہد آفریدی نے جو لکھنا تھا لکھ دیا۔یہ سارے الزامات میں خدا پر چھوڑتا ہوں کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک کھلاڑی کو ٹیسٹ میچ کھلانے سے قبل نیٹ پریکٹس نہ کروائی جائے۔میں سب کو نیٹ پریکٹس کرواتا تھا اور اس بات کی گواہی صلاح الدین صلو بھی ہیں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت عزت دی۔ اللہ تعالیٰ کا بھی ایک ا نتظام اگر کوئی برا آدمی ہے تو اس کو بری عزت ملتی ہے اور اگر وہ اچھا ہے تو اس کو اچھی عزت ملتی ہے۔آج پوری دنیا میں لوگ میری عزت کرتے ہیں۔لوگ مجھے عزت اس لیے دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میں نے پاکستان کی خدمت کی۔میں پاکستان ٹیم کا کوچ تھا ہر آدمی میری مثال دے سکتا ہے۔ میں نے ساری زندگی اللہ کو ذہن میں رکھ کر کام کیا،ایسے الزامات سے فرق نہیں پڑتا،یہ سارا حساب کتاب قیامت کے دن ہو گا اس دن ہر شخص کو پتہ لگے گا۔انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان ٹیم کو میچ جتوانے کیلئے گیند چبائی تھی۔ یہ راز بھی فاش کیا کہ پہلا ون
ڈے کھیلتے وقت ان کی عمر 16 نہیں 19 برس تھی۔ عمران خان بعض کھلاڑیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور عام طور پر کھلاڑیوں سے میل جول بھی نہیں بڑھاتے تھے لیکن عمران خان کسی سے کبھی ذاتی اختلاف نہیں رکھتے تھے۔ کوچ باب وولمر نے ہمیشہ اْن کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کتاب میں 2010 کے بدنام زمانہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے بھی پردہ اٹھایا اور کہا کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کا بہت پہلے علم ہوگیا تھا میں جانتا تھا کہ کچھ کھلاڑی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
The post جاوید میانداد تو اتنا چھوٹا اور گھٹیا آدمی ہے کہ ۔۔ اپنی کتاب گیم چینجر میں شاہد آفریدی کے تہلکہ خیز انکشافات appeared first on Urdu News.