لاہور (ویب ڈیسک) باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا سمیع الحق شہید پر قاتلانہ حملہ کرنے والے نوجوان قاتل نے میزبان ہی کے کچن سے چھری اٹھائی تھی اور اس نے پے درپے وار کر کے مولانا کو بہیمانہ طور پر قتل کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات میں خوفناک انکشاف ہوا ہے کہ، نوجوان قاتل اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا تھا اور مولانا کو کافی عرصے سے جانتا تھا اس لیے مولانا نے اس کی آمد پر کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا بلکہ ڈرائیور اور پی اے کو بازار سے کچھ کھانے کیلئے لانے کو کہا اس دوران میں نوجوان نے اشتعال میں مولانا پر نہ صرف چھریوں سے وار کیے۔
مولانا کی زخمی حالت میں تصویر سوشل میڈیا پر گھوم رہی ہے وہ گھر کے بستر کی نہیں بلکہ پوسٹمارٹم کرنے والی ٹیبل کی ہے جس کے ساتھ ہی ایک دوسرا بیڈ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مولانا کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے سختی سے اصرار کیا تھا کہ وہ ان کا پوسٹمارٹم نہیں چاہتے۔ کہا جاتا ہے کہ قاتلوں میں سے ایک کی عمر کم وبیش 19سے 21سال بتائی جاتی ہے۔ دوسرا اس کی نسبت البتہ معمر تھا۔ جس بے دردی سے نوجوان نے مولانا پر سبزی کاٹنے والی چھری سے وار کیئے وہ ظاہر کرتی ہے۔
کہ قاتل انتہائی اشتعال میں تھا۔ مولانا شہید کی زخمی حالت میں لت پت تصویر ہسپتال کی سفید چادر پر اتاری گئی ہے۔ لیکن چادر پر خون کا کوئی داغ دکھائی نہیں دیتا حالانکہ خبر کی جو تفصیلات اب تک منظر عام پر آچکی ہیں۔اس کے مطابق مولانا شہید کے گھر میں ان کا بستر خون میں تر بتر تھا۔ یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے جسم پر قمیض اس لیے نہیں تھی کہ پوسٹمارٹم کرنے سے پہلے اصول اور قاعدے کے مطابق قینچی سے قمیض کاٹ دیتے ہیں تاکہ جسم کے ہر قسم کے زخم یا نشان دکھائی دے سکیں۔ تاہم یہ امر یقینی لگتا ہے کہ اگر کسی نے ذاتی عداوت یا اشتعال میں بھی یہ قتل کیا تو اس کی منصوبہ بندی غیر ملکی سازش کا طے شدہ حصہ تھی تاکہ اس قتل کی تحقیقات کو غلط رخ پر ڈالا جاسکا۔ جہاں تک مولانا کی چیف جسٹس، وزیر اعظم کے خلاف تقریر کا تعلق ہے ۔
معلوم ہوتا کہ وہ شدید جذبات کی رو میں آنے کا نتیجہ تھی جو آسیہ کے بری ہونے پر ملک بھر میںپھیلا تاہم غیر ملکی قوت نے سازش کے ذریعے ایسے وقت میں ان پر حملہ کرایا جب ایک تیر سے دو شکار کرنا مقصور تھا تاکہ اصل مجرم بچ سکیں۔ قاتلوں کا اصل چہرہ پہنچانا نہ جاسکے۔ خبریں کی اطلاعات کے مطابق انتہائی محنتی اور آزمودہ افسروں پر مشتمل تفتیشی ٹیم اپنا کام کررہی ہے اور انشاءاللہ قاتل جو بھی ہوئے اور ان کے پیچھے جو بھی محرکات ہیں وہ انشاءاللہ سامنے آکر رہیں گے۔ یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ مولانا سمیع الحق کے عمران خان سے بہت اچھے تعلقات رہے 2018ءکے الیکشن میں حامی تھے ۔
اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے ان کے دینی ادارے کی مالی امداد بھی کی تھی۔جس پر اپوزیشن کے بعض حلقوں نے انگلیاں بھی اٹھائی تھیں۔ مولانا سمیع الحق کے حوالے سے ذاتی عداوت کا کوئی ثبوت نہیں مل رہا کیونکہ وہ انتہائی متوازن مزاج صلح جو اور کم و بیش ہر طبقہ فکر میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے؟ اور ان کی نظریاتی وابستگی ہمیشہ اسلام‘ پاکستان‘ فوج اور دین سے رہی۔ لہٰذا کسی شخص کے اندر ان کیلئے اتنا غم و غصہ نہیں ہوسکتا اور ان کے قتل کی خبر سنتے ہی اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ ان کے قتل میں غیر ملکی ہاتھ ہے۔ گزشتہ دنوں نائب امیر طالبان ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کے بعد واضح ہوتا جا رہا تھا کہ جلد ہی مولانا سمیع الحق افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
The post تہلکہ خیز انکشاف : مولانا سمیع الحق کے قتل میں استعمال ہونے والے آلہ قتل کا ان کے اپنے گھر سے کیا تعلق نکل آیا؟ تفتیش میں نیا موڑ appeared first on Urdu News.