توبہ توبہ، یہ مغربی عورتیں بھی بڑی وحشی ہوتی ہیں امریکہ میں خاتون نے اپنے محبوب کےجسم کے ایسے حصے پر اپنا سارا وزن ڈال دیا کہ بے چارہ تڑپ تڑپ کر مر گیا

نیویارک(آئی این پی)دنیا بھر میں مجرمان قتل کیلیے الگ الگ آلات استعمال کرتے ہیں، لیکن امریکا میں ایک بھاری بھرکم خاتون نے اپنے محبوب کو عجیب طریقے سے قتل کردیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست پنسلوانیا میں پولیس نے ایک خاتون کو قتل کے الزام میں عدالت میں پیش کیا، جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے محبوب کو اپنے وزن تلے دبا کر قتل کیا ہے۔
امریکی عدالت نے ونڈی تھامس نامی خاتون پر مقتول کینو بٹلر کو دم گھونٹ کر قتل کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی اور واردات کو تیسرے درجے کا قتل قرار دیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ44 سالہ ونڈی تھامس کا 18 مارچ کو اپنے محبوب سے جھگڑا ہوا تھا جس پر خاتون نے پہلے چھری سے کینو کا ہاتھ کاٹا پھر میز کا پایا اس کے سر پر دے مارا۔امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ بھاری بھرکم خاتون مقتول کے زمین پر گرتے ہی اپنے سے نصف وزن کے کینو کے چہرے پر لیٹ گئی جس کے باعث اس کا دم گھٹ گیا۔غیرملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے۔
کہ کینو بٹلر کا وزن محض 54 کلو ہیجبکہ ونڈی تھامس ڈیڑھ سو کلو وزن کی حامل خاتون ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے فربہ خاتون کو غیر ارادی طور پر تیسرے درجے کا قتل کرنے کے جرم میں 18 سے 36 برس قید کی سزا دئیے جانے کا امکان ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ونڈی نے عدالت میں اقرار جرم کرتے ہوئے بتایا کہ واردات کے وقت میں شراب کے نشے تھی اورمیری کینو سے کوکین خریدنے پربحث ہورہی تھی۔ونڈی تھامس نے بتایا کہ میں نے نشے کی حالت میں کینو پر چھری اور میز کے پائے سے حملہ کیا ۔
اور سینے کے بل مقتول کے چہرے پر لیٹ گئی اور کچھ دیر بعد کینو کی سانس رک گئی اور وہ ہلاک ہوگیا۔ملزمہ کا کہنا تھا کہ میں نے ارادی طور پر اپنے محبوب کو قتل نہیں کیا، مجھے نشہ اترنے کے بعد احساس ہوا کہ میں نے کیا کردیا۔خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 44 سالہ کینو بٹلر کا قتل محض ایک حادثہ تھا، میری موکل نشے کے باعث خود کو سنبھال نہ سکی اور مقتول پر گرگئی اورمقتول کی موت دم گھٹنے کے باعث واقع ہوئی۔
The post توبہ توبہ، یہ مغربی عورتیں بھی بڑی وحشی ہوتی ہیں امریکہ میں خاتون نے اپنے محبوب کےجسم کے ایسے حصے پر اپنا سارا وزن ڈال دیا کہ بے چارہ تڑپ تڑپ کر مر گیا appeared first on Urdu News.